Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایم کیو ایم نے حکومت کو 15 دن کی ڈیڈ لائن دیدی | زرائع نیوز

ایم کیو ایم نے حکومت کو 15 دن کی ڈیڈ لائن دیدی

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں میں تبدیلی کے بغیر کراچی میں بلدیاتی انتخابات کرانے پروفاقی حکومت سے علیحد گی کی دھمکی دے دی۔پیپلزپارٹی پرکراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی الیکشن میں پری پول دھاندلی کاالزام عائدکردیا، حلقہ بندیوں کی تبدیل ی کیلئے وفاقی حکومت کو15جنوری تک ڈیڈلائن دیدی ۔

ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعدکراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں میڈیا سے اطلاع ملی کہ بلدیاتی الیکشن 16 جنوری کو ہورہے ہیں ۔ الیکشن غیر جانب دار اور شفاف ہوں تو ہم ضرور تیار ہیں مگر سندھ کے اندر بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے جو حلقہ بندیاں کی گئی ہیں وہ متنازع ہیں، یہاں پری پول رگنگ ہوچکی ہے، ایم کیو ایم کے زیر اثر علاقوں میں 90 ہزار آبادی پر یوسی بنائی گئی جبکہ دوسری جانب 20 سے 25 ہزار افراد پر یوسی بناد ی گئی۔

الیکشن کمیشن 15 جنوری سے قبل ازسر نو حلقہ بندیاں کرے، اگر حلقہ بندیاں درست نہ ہوئیں تو پھر سڑکوں پر آئیں گے اور احتجاج کر یں گے، یہ کارکنان کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس الیکشن میں حکومت میں رہ کر لڑنا ہے یا حکومت سے باہر ہو کر، اگر الیکشن غیر جانب دار نہیں ہوئے تو پُرامن کس طرح ہوں گے؟ ہم اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے پاس بھی جائیں گے، وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ 24 گھنٹے میں بتائیں کہ جو آپ نے ذمہ داری لی تھی اس پر قائم ہیں یا نہیں؟ تا کہ ہم اپنا کوئی فیصلہ کرسکیں۔

خالد مقبول نے کہا یہ حلقہ بندیاں اس طرح کی گئی ہیں تاکہ اس شہر کا مینڈیٹ چرایا جاسکتا ہے، 2018ء میں شفاف الیکشن نہیں ہوئے اس کے نتائج آپ نے دیکھ لیے، ایک سے دو دن میں جنرل ورکر اجلاس بلوائیں گے جس میں فیصلہ ہوگا، ہمارے بغیر الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی ، کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں صوبے بنانے چاہئیں،یہی صورتحال رہی توفیصلہ کرینگے حکومت میں رہناہے یانہیں۔