Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
نواز کے بعد زرداری اور فریال تالپور کے گرد گھیرا تنگ، بیرون ملک جانے پر پابندی

نواز کے بعد زرداری اور فریال تالپور کے گرد گھیرا تنگ، بیرون ملک جانے پر پابندی

اسلام آباد: سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے علاوہ 7افراد کے نام بھی اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ چیئرمین سمٹ بینک نصیرعبداللہ لوتھا، اے جی مجید اور انور مجیدان 7افراد میں شامل ہیں جن کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔

ایف آئی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹاپ لسٹ میں نام آجانے کے بعد آصف علی زرداری ،فریال تالپور اور یہ 7افراد بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔ دوسری جانب محکمہ داخلہ نے بلیک لسٹ میں زرداری اور فریال تالپور کا نام شامل کرنے کے احکامات موصول نہ ہونے کی تصدیق کردی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں وزارت داخلہ کو 20 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ڈالنے کا حکم دے دیا جس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا بھی نام شامل ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے رقوم کی منتقلی پر نوٹس کی سماعت کی۔

اس موقع پر عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس رکھنے والے 7 افراد سمیت اس سے فائدہ اٹھانے والے 13 افراد کو 12 جولائی کو طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، طارق سلطان، ارم عقیل ، محمد اشرف، محمد اقبال آرائیں اور دیگر افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں جب کہ مذکورہ افراد کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

عدالت نے آئی جی سندھ کو تمام افراد کی پیشی یقینی بنانے کی ہدایت کی جب کہ عدالت نے اسٹیٹ بینک کو سمٹ بینک کی جمع کرائی گئی 7 ارب روپے کی ایکویٹی بھی روکنے کا حکم دے دیا۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کے 13 بینیفشریز میں ناصر عبداللہ، انصاری شوگر ملز، اومنی پولیمئر پیکجز، پاک ایتھنول پرائیویٹ لمیٹڈ، چمبڑ شوگر ملز، ایگرو فارم ٹھٹھہ،زرداری گروپ، پارتھینون پرائیویٹ لمیٹڈ ، اے ون انٹرنیشنل، لکی انٹرنیشنل، لاجسٹک ٹریڈنگ، رائل انٹر نیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سمٹ بینک اور ایم سی بی بینک کے سابق مالک حسین لوائی کو گزشتہ دنوں گرفتار کیا گیا تھا اس کے علاوہ زرادری کے قریبی دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ عام انتخابات سے قبل آصف علی زرداری کو گرفتار کیا جاسکتا ہے جس کے بعد پیپلزپارٹی بھی شدید مشکلات سے دوچار ہوگی۔

خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اسٹیل ملز کی زمین کی فروخت اور کراچی کے تین مختلف بینکوں میں بنائے گئے 29 اکاؤنٹس میں ہیرا پھیری کی تحقیقات شروع کی ، منی لانڈرنگ کے ایک نئے اسکینڈل کے منظر عام پر آنے سے سیاسی ہلچل پیدا ہونے کا امکان ہے۔

کراچی کے تین مختلف بینکوں میں بنائے گئے ان 29 اکاؤنٹس کو غیر قانونی لین دین کے لیے استعمال کیا گیا اور لین دین کے لیے ایک مشکوک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں بھاری رقوم منتقل کرنے اور اسے چھپانے کی کوشش کی گئی، یعنی رقم کی ادائیگی تو اصل اکاؤنٹ سے کی جا رہی تھی لیکن اسے مختلف جعلی اکاؤنٹس سے گھما پھرا کر مطلوبہ افراد تک پہنچایا جا رہا تھا۔

ان کاؤنٹس کے ذریعے سندھ حکومت کے مختلف ٹھیکیدار، پراپرٹی کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ایک بڑا نام، شوگر ملز، سیاسی اہمیت کے حامل ایک گھر کا پروٹوکول افسر، 58 ایکڑ زمین کا ایک خریدار اور دیگر لوگ رقوم بھجوانے والوں میں شامل ہیں۔

زمین فروخت کرنے والا شخص ضلع ملیر میں ایک سیاسی جماعت کا صدر ہے، جس نے پاکستان اسٹیل ملز کے بارے میں خریدار کو اندھیرے میں رکھا، لیکن اس نے اب اپنی زمین کی واپسی کے لیے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

اب تک رقم سے فائدہ اٹھانے والے جن افراد کی شناخت ہوئی ہے، ان میں ایک سینئر سیاسی رہنما، ان کے دو قریبی ساتھی (ایک کاروباری شخصیت اور ایک غیر ملکی شہری جو پاکستان کے ایک بینک کے چیئرمین بھی ہیں اور انہیں اس لین دین کے لیے استعمال کیا گیا ہے) شامل ہیں۔

طارق سلطان نامی شخص کے نام پر بنائے گئے اکاؤنٹ کے ذریعے 3.04 ارب روپے بینک کے چیئرمین کو منتقل کیے گئے، 293.78 ملین روپے کاروباری شخص (طارق سلطان اس کا ملازم ہے) کو منتقل کیے گئے، 10.50 ملین روپے سیاسی رہنما کو جبکہ 2.20 ارب روپے 6 دیگر مشکوک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹس میں سے 490.26 ملین روپے نقد نکلوائے گئے اور ایک ٹریول ایجنٹ کو 25 ملین روپے کی ادائیگی بھی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے کراچی کے ایک تاجر کے پاس ملازم طارق سلطان کو جب ایف آئی اے کے تفتیش کاروں نے بتایا کہ اس کی ایک کمپنی ہے، جس کا نام ‘اے ون انٹرنیشنل’ ہے اور کمپنی کے تین بینکوں میں پانچ اکاؤنٹس بھی ہیں، جو 8 ارب روپے کی مشکوک لین دین کے لیے استعمال کیے گئے، جس پر طارق سلطان نے جواب دیا کہ ‘اس نے آج تک ایک عرب شہری کو نہیں دیکھا، 8 ارب روپے تو دور کی بات ہے’۔

طارق سلطان کی طرح ارم عقیل نامی خاتون کے نام سے بھی ایک اکاؤنٹ بنایا گیا، جو مبینہ طور پر ابراہیم لنکرز نامی کمپنی کی مالک ہیں، ارم عقیل نے بھی کسی کمپنی اور ایسے اکاؤنٹ سے لاتعلقی ظاہر کی جس سے ایک ارب روپے سے زائد کا لین دین کیا گیا۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔