غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار، لیاقت آباد کراچی کا سب سے بڑا گنجان آباد علاقہ بن گیا

کراچی: شہر قائد کے ضلع وسطی میں واقع لیاقت آباد ٹاؤن میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کے بعد یہ ٹاؤن کراچی کی سب سے بڑی گنجان آبادی میں تبد یل ہو گیا ہے۔

لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں بلڈرز مافیا سرگرم ہے جو 40 گز ،60 گز،80گز اور120 گز کے پلا ٹ پر 4 سے 8منزلہ رہا ئشی عمار تیں اور پینٹ ہاؤس تعمیر کر کے انہیں 15 سے 20 لاکھ روپے میں فروخت کرتی ہے، ان فلیٹس میں دو چھوٹے کمرے، ایک باورچی خانہ اور ایک باتھ روم ہوتا ہے۔

لیاقت آباد میں تعمیر ہونے والے ان فلیٹس کو لیز پر نہیں بلکہ سیل ایگریمنٹ پر فروخت کیا جاتا ہے۔

ذرائع نیوز سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اس اہم مسئلے کی جانب حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی مگر بلڈرز کا مافیا ایسا متحرک اور سرگرم ہے جس کا نیٹ ورک ایس بی سی اے میں بھی موجود ہیں، مافیا کے کارندے آواز اٹھانے والے صحافیوں اور رہائشی مکینوں کو لاکھوں روپے کے عوض خرید لیتے ہیں جبکہ وہ سرکاری حکام کو کسی بھی درخواست پر ایکشن نہ لینے اور نقشہ کلیئر کرنے کے لیے بھی بھاری رقم فراہم کرتے ہیں۔

کراچی:‌ پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا کاررنامہ، 6 ماہ میں 200 غیر قانونی تعمیرات،30 کروڑ بھتہ وصول

ایس بی سی اے کے حکام غیر قانونی تعمیرات کے 10لا کھ رو پے مبینہ طور پروصول کرتے ہیں،جس کے بعد بلڈر عمارت کی تعمیر میں نقاص میٹریل استعمال کرتا ہے کیونکہ اُسے کسی کے چھاپے کا خوف نہیں ہوتا، بلڈرز مافیا رشوت کے عوض کھلائی جانے والی رقم کو گاہکوں سے وصول کرتی ہے۔

غیرقانونی تعمیرات:‌سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ

گولیمار کے شہری الطاف حسین کی جانب سے لیاقت آباد ٹاؤن میں گلبہارگلی نمبر دو میں متعدد پلا ٹس پرغیرقانونی تعمیرات کی شکایت 20جنو ری کو درج کرائی گئی لیکن ان پر کوئی کاررو ائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے گزشتہ روز عمارت منہدم ہونے کا واقعہ پیش آیا۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں 2ہزار سے زائد غیر قانونی بلند عمار تیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: