Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
موبائل صارفین ٹیکس دینے کے اہل نہیں‌تو کمپنیاں کیوں ٹیکس کاٹتی ہیں؟ | زرائع نیوز

موبائل صارفین ٹیکس دینے کے اہل نہیں‌تو کمپنیاں کیوں ٹیکس کاٹتی ہیں؟

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) 100 روپے کے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف بی آر اور صوبوں کو حکم دیا ہے کہ وہ موبائل کارڈ پر ٹیکس کے معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 100 روپے کے موبائل کارڈ پر 19 اعشاریہ 5 فیصد سیلز ٹیکس، 12 اعشاریہ 7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 10 روپے سروس چارجز ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں یہ کیسے وصول کیا جارہا ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ود ہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ کو بلائیں ان سے پوچھیں کہ 14 کروڑ صارفین سے روزانہ یہ ٹیکس کس کھاتے میں لیا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اور ڈپلومیٹس سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیسے لگادیا جس پر ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگار ہے ہیں؟ کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو ٹیکس ادا نہیں کرتا وہ ٹیکس کے پیسے کیسے واپس لے گا؟۔