Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
محمد بن سلمان کا جنازہ، سب حقیقت سامنے آگئی | زرائع نیوز

محمد بن سلمان کا جنازہ، سب حقیقت سامنے آگئی

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ دنوں سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موت کی افواہ گردش میں تھی۔ ابتدائی طور پر یہ خبر ایرانی اور روسی میڈیا نے نشر کی جو جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی۔

اس پر سعودی حکومت کی طرف سے شہزادہ محمد کی تازہ تصاویر جاری کی گئیں اور یوں یہ افواہ دم توڑ گئی، لیکن اب ایک بار پھر شہزادہ محمد کی دو ایسی تصاویر سامنے آ گئی ہیں جنہوں نے دنیا میں کھلبلی مچا دی کیونکہ ان میں سے ایک تصویر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ شہزادہ محمد کی لاش ہے اور دوسری میں ان کا جنازہ لیجایا جا رہا ہوتا ہے۔یہ تصویر ممکنہ طورپر سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ عبداللہ کے جنازے کی ہے ۔

برطانوی اخبار دی سن کے مطابق اس سے قبل کہ شہزادہ محمد کو مردہ ثابت کرنے کی یہ نئی سازش زیادہ پھیلتی اُس سے قبل سعودی حکومت نے حالیہ تصاویر اور ویڈیو جاری کردیں۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان یمنی صدر عبدالربو منصور حادی کا جدہ میں استقبال کر رہے ہوتے ہیں، جو گزشتہ روز یمن کے بحران پر تبادلہ خیال کرنے سعودی عرب پہنچے تھے۔

اس ویڈیو کے علاوہ شہزادہ محمدکی ایک نئی تصویر بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ سرکاری عمال کے ایک اجلاس کی صدارت کر تے نظر آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس افواہ کی ابتدا میں ایرانی میڈیا نے خبر دی تھی کہ شہزادہ محمد کے خلاف بغاوت ہوئی ہے اورباغیوں کی فائرنگ سے ان کی موت واقع ہو گئی ہے۔ اس خبر کی تردید کرتے ہوئے سعودی حکومت نے واضح کیا تھا کہ شہزادہ محمد کے محل کے گارڈز نے یہ فائرنگ ایک سویلین ڈرون کو مارگرانے کے لیے کی تھی۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔