Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
انکریمنٹل یونٹس کے واجبات دلوائے جائیں گے، چیئرمین نیپرا | زرائع نیوز

انکریمنٹل یونٹس کے واجبات دلوائے جائیں گے، چیئرمین نیپرا

کراچی: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین توصیف فاروقی نے کہا ہے کہ انکریمنٹل یونٹس کے 11 ارب روپے کے واجبات میں حکومتی 7 ارب دلوائے جائیں گے، اس ضمن میں کاٹی کی تحریری درخواست پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) میں گزشتہ روز خطاب میں کیا۔

تقریب میں کاٹی کے صدر فراز الرحمان، زبیر چھایا،ریحان جاوید، کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی، عامر ضیائ ودیگر موجود تھے۔ چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے مزید کہا کہ درآمدی ایندھن کے منصوبوں پر منحصر نہیں، 10 سالوں میں 65 فیصد قابل تجدید توانائی پر منتقل کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری کی رپورٹ عالمی معیار کے مطابق بہت جامع رپورٹ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے چارج سنبھالا ہے کوشش کی ہے کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ تاہم عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث بجلی کی پیداواری اور تقسیم کار کمپنیوں کو مشکلات درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام تر مسائل کے باوجود فیصلوں کی اکثریت صارفین کے حق میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کراچی کے 2لاکھ 16 ہزار بجلی کی تنصیبات کو محفوظ بنایا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رواں سال 8 گناہ زیادہ بارشوں کے باوجود کوئی قیمتی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کاٹی کے صدر فراز الرحمان نے کہا کہ ملک معاشی بحران سے دوچار ہے اور پیداواری لاگت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔صدر کاٹی نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی پرمنتقل کرنا چاہتی ہے لیکن دوسری جانب انورٹر اور آلات پر ڈیوٹی میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔

فرا زالرحمان نے کہا کہ اس وقت پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،حکومتی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے، ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جس سے سستی بجلی ہر گھر میں پہنچ سکے اور صنعتوں کا بلا تعطل رواں دواں رہے۔انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والا طبقہ مہنگی بجلی خریدنے کا متحمل نہیں۔ ایسے میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔