قطر اور ترکی کا سعودی ولی عہد کے خلاف ’اعلان جنگ‘؟

رپورٹ : ڈی ڈبلیو

جرمن جریدے ’اشپیگل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی خلیجی ریاست قطر میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ قطر میں ترک فوجوں کی بڑی تعداد سعودی عرب کو اشتعال دلا سکتی ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے قریب دو برس سے قطر کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس ناکہ بندی کے منصوبہ ساز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور انہوں نے ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے قطر سے جو مطالبات کر رکھے ہیں ان میں سن 2016 میں قطر میں قائم کی گئی ایک عسکری بیس کو بند کیے جانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دیگر مطالبات کے ساتھ اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا تھا۔

بدھ چودہ اگست کے روز ترک اخبار ‘حریت‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی مطالبے کے جواب میں قطری امیر نے اپنے ملک میں ایک نئی ترک فوجی چھاؤنی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی چھاؤنی کا آغاز رواں موسم خزاں میں کیا جائے گا اور اس کے لیے منعقدہ تقریب میں ترک صد رجب طیب ایردوآن بھی شرکت کریں گے۔

اس وقت تک قطر میں تین ہزار ترک فوجی موجود ہیں تاہم حریت اخبار سے وابستہ خاتون صحافی ہاندی فرات نے اپنی رپورٹ میں یہ بتانے سے گریز کیا کہ نئی چھاؤنی کے قیام کے بعد مزید کتنے ترک فوجی قطر بھیجے جائیں گے۔ اشپیگل نے قطری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ترکی اپنے اتحادی خلیجی ملک میں کم از کم پانچ ہزار مزید فوجی تعینات کرے گا۔

انقرہ اور دوحہ: خطے میں اہم اتحادی

قطر میں مزید ترک فوجی تعینات کر کے دوحہ اور انقرہ سعودی ولی عہد اور ان کے دیگر اتحادیوں کو کچھ واضح پیغامات پہچانا چاہتے ہیں۔

صدر ایردوآن چاہتے ہیں کہ وہ یہ واضح کر دیں کہ ترکی کی خراب ہوتی ہوئی معاشی صورت حال کے باوجود وہ مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عسکری موجودگی میں اضافہ خلیج فارس میں کشیدگی میں اضافے کے صورت میں خطے میں ترکی کے معاشی مفادات کے تحفظ کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

قطری امیر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ناکہ بندی ان کی پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہو گی اور وہ نہ تو الجزیرہ چینل بند کریں گے اور نہ ہی صدر ایردوآن سے اپنے تعلقات ختم کریں گے۔

سعودی ناکہ بندی کے بعد ترکی قطر کا اہم پارٹنر بن کر سامنے آیا اور دونوں ممالک نے باہمی معاشی تعلقات میں بھی نمایاں اضافہ کر رکھا ہے۔ دونوں ممالک نے صومالیہ اور لیبیا کے بحرانوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے۔

اردن اور مراکش سعودی عرب سے دور ہوتے ہوئے

قطر میں ترک فوجیوں کی تعداد میں اضافہ محمد بن سلمان کو مزید اشتعال دلانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد ترکی اور قطر پر اخوان المسلمین جیسی مذہبی تنظیموں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں کئی عرب بادشاہتوں کو ختم کر کے وہاں ‘اسلامی نظام‘ لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی اور اماراتی شہزادے اس کے برعکس ‘جابر حکمرانوں‘ کو مزید مضبوط بنا کر ‘خطے میں استحکام‘ لانے کے لیے کوشاں ہیں جس کا ایک مظہر سوڈان کی صورت حال میں دیکھا گیا۔

خلیجی اتحادیوں کے علاوہ دیگر عرب ممالک بھی کئی برسوں سے تمیم اور ایردوآن کی خارجہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ابتدا میں قریب سبھی ممالک نے سعودی عرب اور اس کے خلجی اتحادیوں کا ساتھ بھی دیا۔ لیکن قطر کے خلاف محمد بن سلمان کے سخت تر اقدامات سے بھی عرب حکمران ناخوش ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران مراکش اور اردن کے بادشاہوں نے ریاض سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: