روزے کے دوران بیوی کو پیار کیا جاسکتا ہے؟‌ شرعی حکم جانیے

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزے کی حالت میں ہوتے ہوئے افضل تو یہی ہے کہ توجہ ذکر و عبادت کی جانب مرکوز رہے لیکن بہرحال بشری تقاضوں کے پیش نظر بھی کچھ سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔

روزے کی حالت میں شریک حیات کے ساتھ بوس و کنار بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے۔

ویب سائٹ Parhlo کے مطابق اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیخ الحدیث مفتی عمر فاروق نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ ”روزے کی حالت میں بوس وکنار سے گریز کرنا چاہیے تاہم اگر یقین ہے کہ اس کے نتیجے میں بات جسمانی تعلق یا انزال کی جانب نہیں بڑھے گی تو اس کی اجازت ہے، یعنی محض بوس و کنار سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔“

شرعی حکم کے مطابق بیوی کے گال، ہاتھ اور ماتھے پر بوسہ دیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ کئی خدشات موجود ہیں۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔