یہ غالباَ یکم نومبر 1947ء سے پہلے کی بات ہے جب انگریز ایشیاء میں موجود تھے کسی گاوں ایک مریض دانت کی شدید تکلیف کے ساتھ داخل کیا گیا ۔ لیکن بد قسمتی سے چوکیدار اپنی ڈیوٹی سے غائب تھا۔ ایک انگریز ڈاکٹر نے ناک سکیڑتے ہوئے عینک کو جنبش دے کر کافی سوچ و بچار کے بعد معاملے کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے تالا توڑنے کا فیصلہ کیا۔
علاج معالجے کروانے کے بعد مریض نے ڈاکٹر کو ڈھیر ساری دعائیں دینے کے ساتھ رخصت ہوا تھوڑی دیر بعد چوکیدار بھی آگیا۔ ڈاکٹر نے متعلقہ چوکیدارکو فوراَ معطل کرنے اور اسپتال کے دروازے کے نقصان کی مالیت چوکیدار سے وصول کی اور اُسے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا۔
کسی بھی ریاست میں عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومتِ وقت کی ایک اہم ذمہ داری میں سے ہوتی ہے لیکن جب بندر کے ہاتھ میں استرا تھما دیا جائے یا نا اہل حکمرانوں یا آفسران کے ہاتھ کسی معاشرے یا ادارے کی باگ دوڑ سونپی جائے تو ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔
موجودہ خستہ حالت پر نظر ثانی کی جائے تو دھن کے پہاڑوں پر تخت سجائے بیٹھے کھوکھلے دعوے کرنے والے نااہل حکمرانوں کے مکروہ چہرے بے نقاب ہو جاتے ہیں۔
کراچی کے بشتر اسپتالوں میں موجود ناکارہ مشینری ‘دوائیوں سے خالی اسٹور ‘غلاظت اور ٹوٹ پھوٹ کے شکار بیت الخلاء کے سامان‘جراثیم زدہ آلات اور غیر تربیت یافتہ اور انسانی جانوں سے کھیلتے نا تجربہ کار عملے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ رابرٹ سن کی روح بھی عالمِ ارواح میں تڑپ رہی ہو اورہمارے حکمرانوں اور چارہ گروں کی بے حسی پر خون کے آنسو بہا رہی ہوگی
۔ڈاکٹر حضرات کسی بھی معاشرے میں مسیحائی کا کام سر انجام دیتے ہیں لیکن جب یہی مسیحا اپنے مقدس پیشے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے زر پرستی کو شعار بنائیں تو موت کے فرشتے بننے میں بھی دیر نہیں لگتی اور بد قسمتی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی زر پرستی کی لت کراچی کے سرکاری و نجی اسپتالوں کے کچھ ڈاکٹرز کی گردشِ خون میں سرایت کرچکی ہے۔
ہر ڈاکٹر کے اسپتال اور کلینک میں مریضوں سے کہیں زیادہ ملکی و غیر ملکی دواساز کمپنیوں کے میڈیکل کا رش لگا رہتا ہے اور ڈاکٹرز قیمتی تحائف اور کمیشن کے چکر میں اندھے ہو جاتے ہیں اور کئی مختلف امراض کے کئی مریضوں کو ایک ہی دوا ساز کمپنی کی تیار کردہ اینٹی بائیوٹیک (Antibiotic) دوا تجویز کرتے ہیں جبکہ اینٹی بائیوٹیک کے غیر ضروری استعمال سے نابلد مریض دوا خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹرز کی جانب سے سرکاری ہسپتال سے پرائیوٹ کلینک کو زیادہ وقت دینے کی شکایات بھی عام ہیں جس کی وجہ سے مریض کلینک کا رخ کرتے ہیں اور چارہ سازوں کی چارہ سازی کے ہاتھ لٹ جاتے ہیں۔
باشعور سماج میں ہر شخص اپنی صلاحیتوں کو عوامی خدمت اور قومی مفاد کے میزان میں تولتے ہوئے پیشے کا انتخاب کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی سمت بہتی ہے اور پاکستان میں بد قسمتی سے میرٹ کی پامالی ‘ کیرئیر کونسلنگ کے فقدان اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ غلط پیشے کا انتخاب کرتے ہیں جس کی وجہ سے تجارتی صلاحیتوں کا مالک فرد ڈاکٹر بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر تاجر ٹھیکدارصحافی بن جاتے ہیں تو صحافی ٹھیکدار مذہبی اسکالر بن جاتے ہیں تو کوئی سیاستدان اور جج بن جاتے ہیں تو جج سیاستدان ایسی صورتحال اورفرسودہ نظام میں انصاف کا قتلِ عام نہ ہو یا ادارے تباہ و برباد نہ ہوں تو اور کیا ہوں۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ اس قوم میں (Civic Sense) کا فقدان پایا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ لوگ بیت الخلاء کے استعمال کے آداب سے نا واقف یا کوڑا کرکٹ کو گھر کے دروازے سے باہر پھینکنے یا ندی نالوں میں بہانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتے۔
اس سماج کو مہذب اور تعلیم یافتہ کہلانے کا ہی کوئی حق نہیں ہے!اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک مہذب اور تعلیم یافتہ قوم بننے میں ناکام کیوں ہیں؟ اور اداروں کی باگ دوڑ ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افراد کے ہاتھوں ہونے کے باوجود تباہی کے دہانے پر کھڑے کیوں ہیں؟تو اس کا ایک ہی جواب ہے کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا فرسودہ نظامِ تعلیم رائج ہے کہ جس میں حصولِ تعلیم کا مقصد انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے یا روادار افراد پیدا کرنے کے بجائے چند کتابوں کو رٹ رٹا کر نا جائز طریقوں کے ذریعے امتحان میں کامیاب ہوجانا اورملازمت کے قابل ہوکر سرمایہ دارانہ نظام کا محافظ بنانا ہے اسی وجہ سے آج ملک کے بڑے بڑے اداروں کوتباہ وبرباد کرنے میں نام نہاد تعلیم یافتہ بیوروکریٹس کا ہاتھ شامل ہے۔
ہر ادارے سے وابستہ تعلیم یافتہ اور ڈگری ہولڈر عہدیدار اپنی استطاعت کے مطابق ہر ادارے کو گدھ کی طرح نوچ رہا ہے۔ تعلیم یافتہ ممالک اور قومیں ترقی کر رہی ہیں بدقسمتی سے ہم مسلسل پستی کی تاریک راہوں کی جانب گامزن ہیں اور پاکستان کے بڑے بڑے ادارے مسلسل تباہ ہورہے ہیں۔سرکاری سکولوں کی خستہ حالت سب کے سامنے ہےسرکاری اسپتال بھی عوام کو صحت کے حوالے سے سہولیات فراہم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں اور عدالتوں کی عمارات پر برائے نام عدل و انصاف کے میزان سجائے گئے ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ مستقبل میںیہ ادارے مزید کراچی شہر کے لیے وبالِ جان بن جائیں کیونکہ جب تک اس ملک میں انارکی قائم ہے اور جب تک اقتدار امیرِ شہر کے ہاتھوں میں ہے اسی طرح غریبِ شہر کا استحصال اور زندگی تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔پاکستان کے غریب عوام اور محنت کش طبقے کو نا اہل حکمرانوں کے سیاسی اعلانوں پر کان دھرنے کے بجائے غریب دشمن سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے کی ضرورت ہے۔
نوٹ: قلم کار کے ذاتی خیالات اور صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
