کراچی: نقیب اللہ قتل کے ملزم راؤ انوار کو پھانسی اور اہل خانہ کو انصاف دلوانے کے لیے سرگرم قبائلی جرگے کے رہنما سیف الرحمان کو دھمکیاں موصول ہونے لگیں۔
سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے ساتھیوں نے نقیب اللہ قتل کیس کی پیروی کرنے والے قبائلی جرگے کے رہنما سیف الرحمن کو دھمکیاں دی ہیں۔
نجی چینل کے مطابق مدعی مقدمہ کے وکیل فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی ملیر کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ راؤ انوار کے ساتھیوں کی جانب سے سیف الرحمن کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیف الرحمن حلقہ این اے 242 سے پی ٹی آئی کے امیدوار بھی ہیں، کچھ عناصر نامعلوم نمبروں سے کال کر کے کیس سے دستبرادری کا مشورہ دے رہے ہیں اور نفی کی صورت میں انہوں نے قتل کی دھمکی دی۔
خط کے مطابق 2 جولائی کو سیف الرحمن سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد ذاتی کام سے آرٹلری میدان تھانے گئے تو وہاں انہیں نامعلوم نمبر سے کال آئی جس میں دھمکیاں دی گئیں۔
دھمکی دینے والے نے خود کو راو انوار کا ساتھی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سابق معطل ایس ایس پی ملیر بے قصور ہے، اس کے خلاف مقدمات کی پیروی سے دستبردار ہوجاؤ، ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خط میں آئی جی سندھ پر زور دیا گیا کہ سیف الرحمن کی سیکورٹی یقینی بنائی جائے اور انہیں ملنے والی دھمکی آمیز فون کال کی تحقیقات بھی کرائی جائیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
