شدّت پسندی کو مشرق سے اور بالخصوص مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن در حقیقت شدّت پسندی کا نہ کوئی مقام اور نہ ہی کوئی مذہب ہوتا ہے۔
ریاست ہائے متحدہ مریکa میں آئے دن تشددت اور باالخصوص گن شدت پسندی کے واقعات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں۔ کبھی کسی اسکول ، کالج یا عوامی تقریب کے دوران پر تشدّد واقعات کی خبریں آتی ہی رہتی ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ۲۷ اکتوبر کی صبح پیش آیا جب پنسلوینیا کے شہر پٹس برگ میں قائم یہودیوں کی ایک قدیم عبادت گاہ (ٹری آف لائف)میں موجود افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے متابق اس واقعہ میں چار سینئر پولیس کمانڈوز سمیت گیارہ یہودی ہلاک اور ۱۵ سے زائد زخمی ہو ئے، یہ اب تک کی امریکی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہے جو امریکہ میں آباد یہودیوں پر کیا گیا ہے۔
حملے کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آپائی ہے ، جبکہ پولیس نے حملہ آور جس ک نام روبرٹ بوورز بتایا جاتا ہے کو گرفتار کر لیا ہے ۔ حکومتی ذراعے کے متابق مجرم روبرٹ بوورز پر وفاقی عدالت میں نفرت انگیزی کا مقدمہ چلایا جائے گا کیونکہ حملہ آور نے حملہ کرنے سے پہلے نعرہ لگایا تھا (تمام یہودیوں کو مر جانا چاہئے)۔
چونکہ اسکویرل ہل کا علاقہ جو ٹری آف لائف کا محلِ وقوع ہے ،پٹس برگ شہر میں یہودیوں کا حقیقی مرکز تصور کیا جاتا ہے لہٰذا اس حملے کو صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے اعلان سے منسوب کیا جارہا ہے۔ جبکہ تین لاکھ سے کچھ زائد آبادی والے اس شہر میں مسلمانوں کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور عرصے سے یہودیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھ رہا تھا اور انہیں دنیا میں رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا مجرم گردانتا تھا اور حملے سے کچھ عرصہ قبل اُس نے لکھا تھا کہ میں اپنے لوگوں کو ذباح ہوتے نہیں دیکھ سکتا (آئے ایم گوئینگ اِن)۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی عبادت گاہیں شدّت پسندوں کی زد میں آگئی ہیں اور پچھلی چند دہایوں سے مختلف عبادت گاہیں جن میں سیناگاگ ، گرجہ گھر اور گرودوارے بھی شامل ہیں ،دہشتگردی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ زیادہ تر حملے سفید فام نسل پرستی کا شاخصانہ نظر آتے ہیں، جن میں لبرلز، نسلی اقلیتوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
عبادت گاہیں جائے امن ہوتی ہیں اور اپنے موطقدین کی آرزؤں کا مرکز بھی لہٰذا ایسے حملوں کا واحد مقصد عوام کے جذبات بھڑکانا ہوتا ہے ۔ عبادت گاہوں پے حملے کو صرف عبادت گزاروں پر حملے کے طور پر نہیں لیا جاتا بلکہ اسے پوری برادری پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
