نیوزی لینڈ میں نامعلوم ملزمان نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے دو مساجد میں موجود افراد پر فائرنگ کرکے کم ازکم 49 مسلمانوں کو شہید کیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور چار جدید گنز کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور اُس نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چالیس سے زائد نمازی شہید ہوئے۔
دہشت گرد نے اپنی کارروائی کی ویڈیو براہ راست سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی جو اب وائرل ہوچکی اُس میں تمام چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ذرائع نیوز کے فیس بک پیچ پر ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے۔
دنیا بھر کے رہنماؤں نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ، وزیراعظم عمران خان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور اپنی گاڑی میں سوار ہو کر آیا اور اس نے اپنی گاڑی میں گانے چلا رکھے تھے اور اس کے پاس دو جدید شارٹ گنز تھیں ۔ حملہ آور نے مسجد میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی ۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت ٹرینٹ کے نام سے ہوئی جس کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ حملے میں 49افراد کی جان چلی گئی جبکہ زخمی ہونے والوں میں سے 25 کی حالت بہت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد پرفائرنگ دہشت گردی ہے۔ جس کی تحقیقات جاری ہیں،پولیس زیرحراست افرادسےتحقیقات کررہی ہے۔اس بار دہشت گردی کےلیےنیوزی لینڈکوچناگیا، پوری کوشش ہےشہریوں کومکمل تحفظ فراہم کریں اور ۔ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دیں۔
پولیس حکام نے مطابق انہوں نے تمسینی ہاٹ فیلڈ نامی لڑکی اور اُس کے دوست کو حراست میں لیا، دونوں ایک ہی گاڑی میں آئے اور پھر انہوں نے مسجد پر حملہ کیا۔
