Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
خواتین کی اصل آزادی، پلے کارڈ نہیں‌ ذہنی وسعت ..... تحریر: سیدہ عبیرہ حسین | زرائع نیوز

خواتین کی اصل آزادی، پلے کارڈ نہیں‌ ذہنی وسعت ….. تحریر: سیدہ عبیرہ حسین

دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے جس میں خواتین کے حقوق کی بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں پر حقوق کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اپنی اقدار اور روایات کو پامال کر کے عریانیت فحاشی اور بے راہ روی کو فروغ دیا جائے۔ آٹھ مارچ کو منائے جانے والے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جس طرح کے پلے کارڈ خواتین نے اٹھائے ہوئے تھے کیا ہمارا اسلامی معاشرہ ان باتوں کی اجازت دیتا ہے ہم کتنا بھی پڑھ لکھ جائیں پر ہماری اقدار روایتیں کبھی یہ اجازت نہیں دے سکتیں کہ ایک لڑکی نیم برہنہ حالت میں اپنے بھائی باپ یا شوہر کے گھر میں آدھی رات کو داخل ہو آزادی سے مراد اگر جسمانی آزادی ہے تو بحثیت عورت میں ایسی آزادی کو نہیں مانتی جس میں عورت آدھی رات کو گھر میں داخل ہو یا مردوں کے ساتھ روڈ پر بیٹھ کر شراب پئے یا ماں باپ کے سامنے کسی غیر مرد کو لیکر اپنے کمرے میں چلی جائے اور دروازہ بند کرلے۔

میرے نزدیک آزادی ذہنی وسعت کا نام ہے جس میں چادر اور چار دیواری کا تقدس برقرار رکھتے ہوئے اگر کچھ کیا جائے تو اسے کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چائے مگر جو خواتین کے عالمی دن پر پلے کارڈ اٹھائے خواتین نے کیپشن لکھ رکھے تھے وہ کسی طور ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے جیسے “”کھانا گرم کردوں گی بستر خود گرم کرلینا اسی طرح بہت سے کارڈ اور اس پر درج نازیبہ الفاظ بالکل بھی ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے نہ ہماری تربیت نہ تعلیم پاکستانی معاشرہ میں بلا شبہ عورت کو وہ حقوق حاصل نہیں پر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ عورت اپنے حقوق مانگتے ہوئے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو ہی پامال کردے۔

عبیرہ حسین کے مزید بلاگز

 * آج کے طالب علم، تحریر: سیدہ عبیرہ حسین

 

ہمارا لباس ہمارے گھر ہماری تربیت پر بہت سے سوال اٹھاتا ہے پھر جن تعلیمی اداروں سے ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں اس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق تعلیم حاصل کی جاتی ہے پر کوئی بھی ادارہ کسی خاتوں کو عریانیت کا سبق نہیں دیتا سب عزت و وقار کے ساتھ جینے کے طریقے بتاتے ہیں اپنی زندگی سہل بنانے کیلئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہیں پر اس میڈیا اور انٹر نیٹ پر گیمز نے جہاں چھوٹے بچوں کے ذہن پر بڑے اثرات مرتب کئے ہیں بالکل اسی طرح خواتین پر یورپین معاشرے کے چھاپ چھوڑ دی جہاں نہ بیٹی ماں کی ہے نہ بیٹا باپ کا نہ بیوی شوہر کی ہے نہ شوہر بیوی کا سب اپنی زندگی اپنے طریقے سے جی رہے ہیں اور چونکہ ان کے مذہب میں ان تمام چیزوں کی ایسی ممانعت نہیں تو انہیں بھی اپنی مذہبی روایات کی کوئی پرواہ نہیں ایک بیٹی اپنے باپ کے سامنے بےہودہ لباس پہننے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتیں وہی یہ چیز ہمارے معاشرے میں اس نیٹ اور میڈیا نے پیدا کردی۔

خدارا اپنی اقدار کو پہچانیں جیون ساتھی چننے سے لیکر اپنی پسند کا لباس کھانا سب پر کوئی پابندی نہیں پر وہ لباس پہنیں جس سے تن ڈھکے نمایا نہ ہو وہ کھانا کھائیں جس سے روح کو تسکین ملے ایسی تعلیم حاصل کیجئے جو والدین کا فرما بردار بنائے نا فرمان نہیں کیوں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ہمیں معاشرے میں عزت سے رہنے کے بہترین اصول سکھاتا ہے ذلت کی زندگی اور آخرت میں ناکامی نہیں خدارا اپنے مقام کو پہچانیں اور مغرب کی اندھی تقلید چھوڑ دیں ذہن کو وسعت دیں زبان کو نہیں تعلیم کو عام کریں عریانیت کو نہیں کیونکہ یہ ہمارا عارضی ٹھکانہ ہے