Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کم نسل کتے بلدیاتی اداروں کی کرپشن میں‌ مددگار.... تحریر محبوب احمد چشتی | زرائع نیوز

کم نسل کتے بلدیاتی اداروں کی کرپشن میں‌ مددگار…. تحریر محبوب احمد چشتی

( بلاگر : سید محبوب احمد چشتی )

کم نسل کاٹنےوالےکُتوں سے بلدیاتی اداروں کی محبتیں عروج پر۔۔۔ خودکےبچے محفوظ ووٹرز و شہریوں کےبچوں کوسگ سےکٹوانےکا اذیت ناک منصوبہ تیار۔۔۔ نسل دیکھ کر پیارکرنےکارواج قصہ پارینہ بن گیا، کم نسل کتوں کوکھلی آزادی۔۔۔ کیا مارنےوالےکپسول کی رقم میں کرپشن کرکےکتوں کاحصہ بھی ہضم کیا جارہا ہے؟

کراچی: شہرقائد میں بڑھتے سگ گزیدگی کےواقعات میئرکراچی وسیم اختر سمیت (تمام) منتخب نمائندوں اور بلدیاتی اپوزیشن کی کم نسل کاٹنےوالے کُتوں سےمحبتیں روایت بننےلگی کیونکہ مئیراوربلدیاتی نمائندوں کو اصل تعداد کاعلم نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی  کتُا شماری ضروری ہوگئی۔

آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے اشرافیہ تو متاثر نہیں البتہ غریب عوام کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ ذرائع کےمطابق شہرکراچی میں سگ گزیدگی کے واقعات میں مسلسل اضافےکی وجوہات سامنےآگئی۔

شہرقائد کےتمام منتخب عوامی بلدیاتی نمائندے واپوزیشن کے اہل خانہ ان کم نسل کُتوں کےکاٹنےسےمحفوظ ہیں اسلیےکوئی فکر کی بات نہیں ہے، دوسری جانب کم نسل کُتوں سےبلدیاتی نمائندوں کی محبتوں کاانکشاف بھی حیران کن عمل کی عکاسی کررہاہے۔

یوسی کی سطع پرچیئرمینز، وائس چیئرمینز کونسلرز اپوزیشن سمیت سب حلوے مانڈے کھانےمیں میں لگےہوئےہیں، ایک روز قبل گلشن اقبال یوسی 6 میں مقامی اخبار کے رپورٹرز کے بچے کوآوارہ کُتےنےکاٹ لیا واضع رہے کہ یہ پہلاواقعہ نہیں ہے شہر قائد کے تقریبا سب ہی علاقوں میں اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔

صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے پاس کتے مارنے کے اختیارات بھی نہیں کیونکہ سندھ حکومت نے یہ بھی چھین لیا، المیہ یہ بھی ہےکہ کُتوں کےمارنےوالےکپسول کے فنڈز میں کرپشن کرکےکتوں کو آسان موت مارنےمیں بھی رکاوٹ بناجارہا ہے۔ بنیادی حقوق سےمحروم قوم کی بدنصیبی تودیکھئےکہ انتہائی معذرت اور ردوبدل کےساتھ

دشت تودشت صحرا بھی نہ چھوڑے تم نے۔۔۔

شہرقائدغریب عوام پرکُتے چھوڑ دیئے تم نے۔۔۔

ذرائع کےمطابق شہرکراچی میں اعلیٰ نسل کےکتوں کوبنگلوز میں رہائشی سہولیات برسوں سےفراہم کی جارہی ہے لیکن کم نسل اور سونے پرسہاگہ کاٹنےوالےکُتوں کوشہرقائدکی عوام پرمسلط کردیاگیاہےیوسی چھ سمیت پورے ڈسرکٹ ساؤتھ میں آوارہ نسل کےانتہائی زیریلےکتوں کی کھلےعام کاٹنےکی اس دہشت گردی کے مشن میں ڈی ایم سی ساؤتھ چیئرمین ملک فیاض اور یوسی چیئرمین فضل الرحمان سہولت کاری کا کردار اداکررہےہیں منتخب عوامی نمائندوں کی کم نسل کُتوں سے محبت عوام پربہت بھاری پڑرہی ہے۔

اس حوالےسے اگر کچھ مثبت تجاویز پرکام ہونےسے پاکستانی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہی دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ مصر پر بھی بیرونی قرضے پاکستان کی طرح 92 ارب ڈالر ہیں، صرف چند کروڑ کا فرق ہے۔ مصر بھی کبھی ورلڈ بینک اور کبھی آئی ایم ایف کی دیلیز پر کشکولِ گدائی لئے کھڑا آتا ہے مصری وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی کی حکومت بھی معیشت سدھارنے کیلئے مختلف پلان تشکیل دے کر ہاتھ پاؤں مار رہی ہے.

مصری پارلیمنٹ کی رکن محترمہ مارگریٹ عازر نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی کہ کیوں نہ ہم ملک بھر کے آوارہ کتوں کو جمع کریں اور پھر کتا کھانے والے ممالک مثلاً کوریا۔چین۔فلپائن کو فروخت کر کے اچھا خاصا زرمبادلہ کمائیں مصری سڑکوں میں بھی آوارہ کتوں کی بہتات ہے، جیسے نئے پاکستان میں مارگریٹ کی اس تجویز پر اگرچہ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اعتراض کیا ہےلیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق ماہرین معیشت اس اہم نکتے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

محبوب چشتی کی دیگر تحاریر

کراچی کے بلدیاتی مسائل کی جڑ میئر کراچی اور ایم کیو ایم؟ تحریر سید محبوب احمد چشتی

کوریا سے اس حوالے سے مذاکرات کا بھی امکان ہے جنوبی کوریا میں کتے بڑے پیمانے پر کھائے جاتے ہیں۔ Dog Meat کورین باشندوں کی فیورٹ غذا ہے کورین اینمل رائٹس ایڈوکیٹس کے مطابق کورین سالانہ 9 لاکھ 80 ہزار سے 10 لاکھ کتے چٹ کر جاتے ہیں۔

اس تعداد میں ہر سال 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوتاجارہا ہے ہر کورین باشندہ اوسطاً چار سو ڈالر ماہانہ کتے کا گوشت خریدتا ہے۔ کوریا میں کتے کا گوشت 18 ڈالر (2213 روپے) کا کلو ہےقبل اس کے کہ مصر اس معاملے میں سبقت لے جائے، ہماری حکومت کو چاہئے کہ وہ اس تجویز پربھی غورکرے سی این این کے ذرائع کےمطابق کوریا میں کتوں کی بہت زیادہ قلت ہو گئی ہے۔

امید ہے کہ اچھا دام مل جائے گا، اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ آوارہ۔جنگلی باؤلے کتوں سے شہریوں کی جان چھوٹ جائے گی، جو آئے روز بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ دوسرا معیشت کو سہارا مل جائے گا، ظاہر ہے جب چند بھینسیں معیشت سدھارنے میں اپنا ’’لازوال‘‘ کردار ادا کر سکتی ہیں تو لاکھوں کتوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔۔۔؟

مشکل وقت میں جب آپ کڑوا گھونٹ پینے اور آئی ایم ایف سمیت دیگرممالک کے سامنے دستِ سوال پھیلانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تو اپنے ہی ’’ہم وطن‘‘ کتوں کی ’’خدمات‘‘ حاصل کیوں نہیں کر سکتے؟

قرار داد پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے حق میں جدوجہد، تحریر: سید محبوب احمد چشتی

کوریا کی سال بھر کی ضرورت کو صرف کراچی کےکم نسل کتے ہی پورا کر سکتے ہیں،کراچی کے قریب ’’بُڈو‘‘ نامی ایک جزیرہ ہے، جو صرف کتوں سے آباد ہے۔ جہاں 30 ہزار سے زائد کتے موجود ہیں۔سگ گزیدگی کےواقعات میں خطرناک اضافے کومد نظر رکھتے ہوئے اس عمل سےبہتری آنےکی امیدپیداہوسکتی ہے شرط صرف عمل شفافیت کویقینی بنانا ہے۔۔