Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
وفاق کراچی سے مخلص نہیں، ترقیاتی فنڈ کا ایک روپیہ بھی کراچی کو نہیں‌ملے گا، مصطفیٰ کمال | زرائع نیوز

وفاق کراچی سے مخلص نہیں، ترقیاتی فنڈ کا ایک روپیہ بھی کراچی کو نہیں‌ملے گا، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ 162 ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی کراچی والوں کو نہیں ملے گا، 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق سے شہروں کو پیسے صوبے کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے ذریعے آئیں گے اگر وفاق کراچی سے مخلص ہوتا تو k4 کے پیسے جاری کرتا، کراچی سرکلر ریلوے کی فوری بحالی کے اقدامات کرتا، مارٹن کوارٹرز، کلنٹن کوارٹرز سمیت دیگر کوارٹرز کے لوگوں کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا، 70 لاکھ لوگوں کو گنے بغیر کسی پیکج کا کوئی فائدہ نہیں جو صرف وفاقی حکومت کو کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دو محاز ہیں معاشی اور سرحدی، سرحدوں کی حفاظت مضبوط ہاتھوں میں ہے دشمنوں سے جنگ میں سب نے دیکھا کہ افواج پاکستان نے ملک کا بہترین دفاع کیا لیکن معاشی محاذ پر ہمیں ناکامی کا سامنا ہے گیس 143 فیصد، بجلی 30 فیصد مہنگی ہو گئی، افراطِ زر 3.2 سے بڑھ کر 8.2 فیصد ہو گئی ہے وزیر خزانہ 10 ہزار میں دو بچوں کے ساتھ ایک غریب کا گھر چلا کر دکھائیں ،ملک کا قرض 107 بلین ڈالر کا ہوگیا ہے۔ ملک کا نومولود بچہ بھی 1 لاکھ 45 ہزار کا مقروض ہو چکا ہے۔ عوامی مسائل کے حل کیلئے این ایف سی ایوارڈ کو پی ایف سی ایوارڈ سے مشروط کیا جانا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سندھ کے حالات بہت مخدوش ہیں، امید نام کی چیز دم توڑتی جا رہی ہے امید تھی سندھ میں بھی تبدیلی آئے گی لگتا تھا وزیراعظم سندھ کے حکمرانوں سے بات کریں گے کہ وہ مسائل حل کریں جیسا کہ وزیراعظم عہدہ ملنے سے پہلے کہتے تھے پاکستان میں لندن جیسا بلدیاتی نظام ہونا چاہیے لیکن آٹھ ماہ میں بلدیاتی مسودہ بھی تیار نہیں ہوا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے شہر کو سمجھا ہوا ہے ہم سے پوچھ لیں تختی کیسے لگانی ہے، باغ ابن قاسم پر نیب کی انکوائری چل رہی ہے وزیراعظم کو وہاں بلا کر اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔27 فروری 2007 کو باغ ابنِ قاسم کا افتتاح کیا تھا جس کا وزیراعظم عمران خان نے آج دوبارہ افتتاح کیا۔ انہیں غلط بریفننگ دی گئی لیکن انہیں بھی کہیں جانے سے پہلے حقائق معلوم کرنے چاہئیں باغ ابن قاسم کی جگہ قبضہ کر لی گئی تھی 130 میں سے 70 ایکڑ پر بڑے بڑے مافیاز کا قبضہ تھا،2005 میں جب پہلی مرتبہ گئے تو ہم پر باقاعدہ فائرنگ کی گئی ہمارے بعد باغ ابنِ قاسم میں انکروچمنٹ نہیں تھی، کراچی والوں کیلئے 60 کروڑ میں 130 ایکڑ پر ایشیا کے خوبصورت ترین پارکس میں سے ایک بنایا۔ اس وقت کے صدر جنرل مشرف نے اس کا افتتاح کیا، لوگوں سے سوال ہونا چاہیے کہ ہمارے جانے کے بعد وہ پارک اجڑا کیوں؟۔ اب 1 ارب 30 کروڑ سے اس پارک کو دوبارہ بنایا گیا جو پہلے 60 کروڑ میں بنا تھا جبکہ اب صرف پانی ڈالنے کی ضرورت تھی، وزیراعظم صاحب اس معاملے کی انکوائری کریں نیب کو انکوائری کا حکم دیں کہ یہ باغ کیسے اجڑا۔ وزیراعظم کو کوئی حقائق سے آگاہ کرنے والا نہیں ہے۔

کراچی کے پہلے دورے میں انہوں نے اعلان کیا کہ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ بنگالیوں اور افغانیوں کو شناختی کارڈ دینا ہے اور اب کہا کہ کراچی کے مسائل کا حل اونچی عمارتیں اور ماسٹر پلان بنانا ہے لیکن انہیں یہ نہیں معلوم پورے شہر میں اونچی عمارتیں نہیں بنائی جاتیں اور شہر کا ماسٹر پلان موجود ہے جس میں اونچی عمارتوں کیلئے زون مختص ہیں۔ وزیراعظم کے تمام ایم این ایز بلڈرز ہیں گمان ہوتا ہے کہ انہوں نے ہی وزیراعظم کو غلط بریفنگ دی ہوگی۔ وزیراعظم کو تختی لگانی ہے تو کراچی یونیورسٹی کو تین شفٹس میں چلانے کے احکامات دیں کیونکہ نئی یونیورسٹی فوری نہیں بنا سکتے تو موجودہ عمارت کو تین سفٹس میں استعمال کریں۔ حیدرآباد کی یونیورسٹی کا اعلان کردیا گیا لیکن کہاں بنے گی کوئی جگہ الاٹ نہیں ہوئی، کوئی طریقہ کار وضع نہیں ہوا، گرین لائن منصوبے میں بسیں لانے میں اب بھی سال لگے گا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نہیں بنا، کے 4 فیز 2 بنانے کی ضرورت ہے وفاق فیز 1 کے پیسے جاری نہیں کر رہا۔