Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی کی سیکیورٹی صورتحال پر سیکڑوں مارکیٹوں کے تاجرو‌ں‌ کا عدم اطمینان | زرائع نیوز

کراچی کی سیکیورٹی صورتحال پر سیکڑوں مارکیٹوں کے تاجرو‌ں‌ کا عدم اطمینان

کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں موجود بازاروں اور مارکیٹوں کے تاجروں نے ایک بار پھر پرچیاں ملنے اور مسلح افراد کی واپسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوالات کھڑے کردیے۔

جوڑیا بازار،اطراف کی مارکیٹوں کے تاجروں کا سیکیورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ حکومت نے تاجروں کو قاتلوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ چیئرمین پاکستان کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کراچی، پاکستان کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن(پی کے ایم اے) کے چیئرمین حاجی ندیم الرحمان نے ملک کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار اور اس کے اطراف کی مارکیٹوں میں سیکیورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے تاجروں کے جان ومال کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

چیئرمین پی کے ایم اے حاجی ندیم الرحمان نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل میں کہا ہے کہ جوڑیا بازار کے تاجر محمد سلیم کے قتل کے بعد تاجر برادری میں پائی جانے والی بے چینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ گزر گیا لیکن تاجر محمد سلیم کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا جا سکا۔

انہوں نے تاجر محمد سلیم کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل تاجربرادری کو حکومت سندھ نے قاتلوں کے رحم و کرم پر بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے، ملکی خزانے میں 70فیصد سے زائد ٹیکس دینے والے کراچی کے تاجروں کی جان ومال محفوظ نہیں ہیں۔

https://zaraye.com/karachi-trader-target-killing-all-markets-closed/

انہوں نے مزید کہا کہ جوڑیا بازار سمیت اطراف کی مارکیٹوں میں سیکیورٹی کے کوئی مناسب انتظامات دکھائی نہیں دیتے۔ پولیس چوکیاں تو قائم کی گئیں لیکن وہ بھی برائے نام ہیں جہاں خالی چوکیاں تاجروں کو منہ چڑاتی نظر آتی ہیں۔پولیس اہلکاروں کا گشت بھی برائے نام ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بولٹن مارکیٹ، میریٹ روڈ،جوڑیا بازار، ڈانڈیا بازار،چھالیہ بازارکیمیکل مارکیٹ، گرین مارکیٹ، ڈرائی فروٹ مارکیٹ،محمد شاہ اسٹریٹ ودیگر مارکیٹوں میں پولیس چوکیوں کی تعداد بڑھانے اور پولیس اہلکاروں کے گشت میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ دن کے اوقات میں تقریباً صبح 9بجے سے رات 9 بجے تک مارکیٹوں میں فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں اور مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اسنیپ چیکنگ بھی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں جوڑیا بازار میں قتل ہونے والے محمد سلیم کو بھتہ نہ دینے پر قتل کیا گیا، اولڈ سٹی ایریا میں جرائم پیشہ افراد اور لیاری گینگ وار کے کارندے ایک بار پھر سرگرم ہوگئے جنہوں نے بھتوں کی وصولی کے لیے تاجروں کو پرچیاں بھی بھیجنا شروع کردیں۔