کراچی کے پارکوں کی بحالی کے نام پر کرپشن کا انکشاف، نیب کو خبر مل گئی

پارکوں کی بحالی کےنام پربلدیاتی اداروں کی کرپشن عروج پر۔ نیب حکام نےباغ ابن قاسم کادورہ کرکےازخودجائزہ لیا۔ نیب کی جانب سے وقتا فوقتاتحقیقات سےبہتری آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی): شہر قائد میں جگہیں بحال یا دیکھ بھال کرتے جاؤ اور جیبیں بھرتے جاؤ،بلدیاتی اداروں نے پارکوں کی بحالی و دیگر ترقیاتی کاموں کی مرمت ودیکھ بھال پر پیسے کمانے کا کاروبار کئی سالوں سے جاری رکھا ہواہے اب نیب کی جانب سے وقتا فوقتاتحقیقات سےبہتری لانے کی امید کی جاسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پارکوں کی بحالی پر خرچ ہونے والی رقومات سے افسران کا کاروبار چلنا معمول کی بات بن گئی ہےجبکہ منتخب بلدیاتی نمائندگان بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہیں،سڑکوں کی بحالی میں بھی کروڑوں روپے ہڑپ لئے گئے ہیں اس کی بھی جانچ پڑتال ہو گی یا نہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا تفصیلات کے باغ ابن قاسم کی بحالی پرخرچ ہونے والی خطیر رقم پر ایک مرتبہ پھر نیب کے متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ اس سلسلے میں گزشتہ انکوائریوں میں محکمہ پارکس بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران اطمینان بخش جوابات دینے سے عاری دکھائی دئیے۔

https://zaraye.com/mehboob-ahmed-chishti/

سن 2017-18 میں سندھ حکومت کی جانب سے تین اہم شاہراہیں تعمیر کی گئیں تھیں جس میں طارق روڈ، یونیورسٹی روڈ اور شاہراہ فیصل شامل ہیں اس میں طارق روڈ کو سامنے رکھا جائے تو یہ بمشکل تین یا چار کلومیٹر کی سڑک ہے جس کی حدود شاہراہ قائدین سے منسلک اللہ والی چورنگی سے شہید ملت روڈ کی طارق روڈ چورنگی تک ہے اس روڈ کی تعمیر وترقی جس میں ڈرینیج سسٹم، سڑک کی تعمیر، فٹ پاتھ کی تعمیر، سینٹرل آئی لینڈ کی تعمیر کے کام مرکزی نوعیت کے حامل ہیں جس کی تعمیر پر ذرائع کے مطابق 55 کروڑ روپے کی رقم خرچ کی گئی جس پر ماہرین تعمیرات سمیت میڈیا بھی دانتوں تلے انگلیاں چبانے پر مجبور ہوگیا تھا مگر اب تک ان پروجیکٹس کے بارے میں تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا ہے جبکہ یہ سڑکیں کچھ عرصے بعد ہی جگہ جگہ سے اُدھڑنا شروع ہوگئیں تھیں اس سلسلے میں ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ چار کلومیٹر کی سڑک پر مذکورہ ہر لحاظ سے کام کو مدنظر رکھا جائے تو فی کلومیٹر 2 کروڑ روپے کا خرچہ بنتا ہے اس طرح چار کلومیٹر کی سڑک کا تخمینہ 8 کروڑ یا بہت زیادہ 10 کروڑ سے زائد نہیں ہے اس میں سو فیصدی کمیشن شامل کیا جائے تو یہ رقم 20 کروڑ روپے بنتی ہے ایک سڑک کی تعمیر پر جائز وناجائز رقم کو ملانے کے بعد 35 کروڑ روپے زائد خرچ کیا جانا لمحہ فکریہ تھا جسے اس وقت بھی نظر انداز کیا گیا جبکہ یونیورسٹی روڈ اور شاہراہ فیصل کی تعمیر میں جو سنگین بدعنوانیاں کی گئیں ہیں وہ علیحٰدہ ہیں۔

https://zaraye.com/karachi-problems-mehboob-ahmed-chisti-blog/

جس طرح نیب حکام نے باغ ابن قاسم کا دورہ کر کے ازخود صورتحال کا جائزہ لیا ہے اسی طرح سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی سمیت دیگر بلدیاتی اداروں کے پروجیکٹس پر بھی تحقیقات ہونی چاہیئں تو ممکن ہے بے قاعدگیاں سامنے آئیں ایک سڑک کی تعمیر پر بے رحمانہ طریقے سے اتنے پیسے خرچ کر دئیے جاتے ہیں جس سے تین اور سڑکیں مکمل طور پر تعمیر ہو سکتی تھیں طارق روڈ سمیت دیگر سڑکوں کے ریکارڈز حاصل کر لئے جائیں تو خودبخود دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا، کراچی میں جابجا ترقیاتی کاموں میں کرپشن کی داستانیں موجود ہیں جس کا ازخود نوٹس لیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے جبکہ سندھ حکومت سمیت بلدیاتی اداروں میں ترقیاتی کاموں کو الاٹ کرنے کے دوران پرسنٹیج کے نام پر جو غیر قانونی رقومات کی روایت قائم ہوچکی ہے اس پر کسی سطح پر ایکشن نہ ہونے سے ترقیاتی کاموں کا معیار دن بہ دن زمین بوس ہوتا جا رہا ہے۔

https://zaraye.com/ik-apperciate-mayor-khi/

اسوقت کوئی بھی ترقیاتی کام سر انجام دیا جائے اس کی مدت ایک سے دوسال سے زیادہ نہیں ہوتی اس طرح کرپٹ افسران کچھ کچھ عرصے بعد ترقیاتی کاموں کے نام پر رقمیں بٹورتے دکھائی دیتے ہیں ،پرسنٹیج کے نام پر پیسے بٹورنا ایک ایسا عمل ہو چکا ہے جسے روکے یا کم کئےبغیر کراچی میں طویل مدت کے منصوبے فراہم کرناناممکن ہے .