Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایم کیو ایم پاکستان کا وفاق سے اتحاد برقرار، خالد مقبول نے وزارت کیوں چھوڑی؟ اہم وجوہات | زرائع نیوز

ایم کیو ایم پاکستان کا وفاق سے اتحاد برقرار، خالد مقبول نے وزارت کیوں چھوڑی؟ اہم وجوہات

ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اب اُن کی کابینہ میں بیٹھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی، جبکہ انہوں نے وفاق کی جانب سے کراچی کو نظر انداز کرنے کا شکوہ بھی کیا۔

خالد مقبول صدیقی نے اپنی طویل پریس کانفرنس میں کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے لیے بارہا ترقیاتی فنڈز کا اعلان کیا گیا اور پھر بات آئی گئی ہوگئی، انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ایم کیو ایم کے پاس ایک ہی وزارت ہے کیونکہ بیرسٹر فروغ نسیم کو وزارت قانون تحریک انصاف نے اپنی ایماں پر دی اور وہ براہ راست ایم کیو ایم کا حصہ بھی نہیں ہیں۔

خالد مقبول نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُن کے ووٹرز حکومتی اتحاد سے بددل ہوچکے ہیں، البتہ خواجہ اظہار سمیت ایم کیو ایم کے دیگر ذمہ داران نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ نہیں ہورہے کیونکہ ساتھ چلنا وقت کی عین ضرورت ہے، دوسری جانب پی پی کی جانب سے ملنے والی پیش کش پر بھی عمل جاری ہے۔

خالد مقبول کی وزارت چھوڑںے کی وجوہات 

خالد مقبول صدیقی کے پاس وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے، وہ بارہا اس بات پر ناخوشی کا اظہار کرچکے کہ جب انہیں ٹیکنالوجی کے بارے میں علم نہیں تو دوسری وزارت دی جائے، چند روز قبل ڈیجیٹل پاکستان کے نام سے ایک پروجیکٹ متعارف کرایا گیا جس میں گوگل میں ملازمت کرنے والی پاکستانی خاتون اپنی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آئیں اور انہیں اہم عہدہ دیا گیا۔ ذرائع کو ملنے والی ایک اطلاع کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی سربراہ تانیہ ادرس کی مسلسل مداخلت کے باعث وزارت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

ایک اور معاملہ جسے ایم کیو ایم نے بارہا وفاقی حکومت کے سامنے دہرایا وہ سیکٹرز اور یونٹ کھولنے کی اجازت کا ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات شروع ہونے سے قبل ایم کیو ایم منظم ہونا چاہتی ہے، مقتدر حلقوں نے اس بات کی تاحال اجازت نہیں دی کہ ایم کیو ایم باقاعدہ اپنے دفاتر کھولے۔

پاک سرزمین پارٹی کی عزیز آباد نائن زیرو پر انٹری نے ایم کیو ایم کو پریشان کردیا، اس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام سے بھی رابطہ کیا اور اس انٹری کو رکوانے کے لیے استدعا کی مگر حکومتی شخصیات نے اسے ان سنی کردیا، اسی طرح شہدائے یادگار مسمار ہونے کے بعد بحالی کے اعلان پر بھی ایم کیو ایم کو شدید دباؤ پر پیچھے ہٹنا پڑا، اب بھی وہ جگہ ایسی مسمار ہوئی ہے، اس موقع کا پی ایس پی نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں بارہا یہ بات دہرائی جاچکی کہ حکومت فیصل سبزواری کو وزیراعظم کا معاون خصوصی اور امین الحق کو پورٹ اینڈشپنگ کی وزارت دے، بے شک وہ آئی ٹی کی وزارت بھی واپس لے لے، یہ بات واضح ہے کہ اندرونی دباؤ اور کوئی فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی خالد مقبول علیحدہ ہوئے اور انہوں نے آئندہ کابینہ کا حصہ نہ بننے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ حکومت میں شمولیت اور وزارت ملنے کے بعد بھی خالد مقبول صدیقی یا فروغ نسیم اپنے محکموں میں ایم کیو ایم کے بے روزگار کارکنان کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا نہ کرسکے، جس کی وجہ سے خالد مقبول سے رابطہ کمیٹی میں بارہا سوالات بھی ہوئے اور وہ جواب دینے سے قاصر رہے کیونکہ وزیراعظم کسی بھی بات پر سنجیدہ نہیں ہیں۔

وفاقی حکومت نے ہر بار ایم کیو ایم کے مطالبات سننے کے بعد ٹال مٹول سے کام کیا اور انہیں چینی کی میٹھی گولیاں دیں جس کے بعد ایم کیو ایم فی الوقت خاموش ہوئی، بارہا کمیٹیاں بنائی گئیں، فالو اپ کے لیے بھی بڑے اعلانات ہوئے مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا ایک بڑا گروپ اس بات کا خواہش مند ہے کہ پی پی کے ساتھ اتحاد کرلیا جائے، اس سے وزارت بلدیات ایم کیو ایم کے پاس ہوگی جس سے میئر کے مسائل، فنڈز کی فراہمی، واٹر بورڈ کے مسائل و دیگر اہم معاملات حال ہوجائیں گے، ساتھ ہی ترقیاتی کاموں کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا،یوں کارکنان کے لیے ملازمتوں کے مواقع اور گٹر لائنیں ڈالنے کے ٹھیکے بھی اپنوں کو ہی دیے جاسکیں گے۔

حکومتی رابطے پر ایم کیو ایم کیا کرے گی؟

ایم کیو ایم نے یہ پالیسی اختیار کرلی ہے کہ اگر وفاق امین الحق اور فیصل سبزواری کو اُن کے مطلوبہ عہدے دے سکتی ہے تو اتحاد برقرار رہے گا، وگرنہ آئندہ دنوں پی پی کے ساتھ سندھ حکومت میں شمولیت کے بعد ایم کیو ایم تحریک انصاف کو ہری جھنڈی دکھا دے گی۔ ایم کیو ایم نے وزیر بلدیات کے لیے کنور نوید جمیل کا انتخاب بھی کرلیا ہے البتہ اس پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوسکا۔