Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
علم کا ظفرِ موج … پروفیسر حسن ظفرعارف …. ابتدا سے اختتام تک | زرائع نیوز

علم کا ظفرِ موج … پروفیسر حسن ظفرعارف …. ابتدا سے اختتام تک

ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنونیر اور شہرِ کراچی کے معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف 13 جنوری 2018 بروز اتوار کی صبح کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں اپنی کار کی عقبی نشست پر مردہ حالت میں پائے گئے تھے، آج اُن کو جدا ہوئے دو سال کا عرصہ بیت گیا۔

سفرِ زندگی

فلسفے میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر حسن ظفر عارف جامعہ کراچی میں شعبہ فلسفہ کے استاد رہے ہیں وہ دوران تدریس ہی ایک متحرک ترقی پسند نظریاتی کارکن اور سرمایہ درانہ نظام و آمریت کے خلاف جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے تھے، جس کی پاداش میں انہیں اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ دوران تدریس جہاں وہ طالب علموں کی نصابی ضرورتوں کو پورا کرتے وہیں ان کی نظریاتی ذہن سازی بھی کرتے اور ایک روشن خیال معاشرہ کی ترویج میں طالب علموں کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرتے رہے چنانچہ طالب علموں کے ساتھ اُن کا رویہ محض ایک مشفق استاد کا ہی نہیں بلکہ ایک لیڈر بھی کا تھا جو نوجوان ذہنوں کی مثبت سوچ کے ساتھ آبیاری کیا کرتا تھا۔

انہوں نے جامعہ کراچی کے اساتذہ کی ایک انجمن کے سیکریٹری اور صدر کے طور پر بھی فرائض انجام دیئے اور اس دوران نہ صرف یہ کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کرایا بلکہ اساتذہ کے دیگر مسائل کو حل کرانے میں کامیاب رہے۔

آمریت کے خلاف جدوجہد

جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں انہیں پیپلز پارٹی کے حق میں آواز اُٹھانے کی پاداش میں اُس وقت کے گورنر سندھ جنرل جہانداد کے حکم پر نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ انہیں آمریت مخالف تحریک چلانے کے جرم میں ملازمت سے برطرف کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے کسی قسم کی سودے بازی سے واضح انکار کیا۔

اُن کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے میں بھی ڈاکٹر صاحب نے کلیدی کردار ادا کیا اور 80 کی دہائی میں جب اُس وقت کے آمر حکمراں کے خلاف ریگل چوک پر مظاہرہ کرنے کے دوران ڈی ایس پی نے مظاہرین پر دھاوا بول کر پروفیسر صاحب کو گریبان سے پکڑ کر پولیس موبائل میں ڈالا تو اگلے روز یہ تصویر مقامی اخبار میں ’’ ڈی ایس پی بمقابلہ پی ایچ ڈی ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔

ڈاکٹر حسن ظفر عارف نے بائیں بازو کی تحریک سے تعلق رکھنے والے دیگر دانشوروں جیسے سبط حسن ، ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر فیروز احمد، ڈاکٹر افروز، مومن خان مومن و دیگر کے ساتھ مل کر ہم خیال دانشوروں کی انجمن کی داغ بیل ڈالی جس کے تحت ‘پاکستان فورم’ کے نام سے ایک تحقیقی جریدہ شائع کرنے کا آغاز کیا جو پاکستان میں بائیں بازو کے نظریات کی پرچار کرتا تھا۔

اس تحقیقی جریدے نے ضیاء الحق کے دور حکمرانی کی رجعت و بنیاد پرستی، متوسط طبقے کی نمائندگی، علم دوستی اور آمریت کے خلاف جدوجہد میں پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر جمہوری قوتوں کی حمایت میں مضامین شائع کیے جس کے باعث اس جریدے کو جاری رکھنے میں سخت پریشانی کا سامنا بھی رہا۔

پیپلزپارٹی کے لیے خدمات

پروفیسر حسن ظفر عارف آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد میں ایم آر ڈی کا حصہ بھی بنے علاوہ ازیں وہ پیپلزپارٹی میں محنت کشوں، کسانوں اور طالب علموں اور درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند سیکشن کی نمائندگی کے خواہاں تھے جس کے لیے انہوں نے پی ایس ایف کو جامعہ کراچی میں منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کراچی یونیورسٹی میں ملازمت سے برطرفی کے بعد بیگم نصرت بھٹو کی تجویز پر وہ باقاعدہ پی ایس ایف کو منظم کرنے اور ترقی پسند طلبہ تنظیم این ایس ایف کی رہنمائی میں کل وقتی طور پہ مصروف ہوگئے اُسی زمانے میں انھوں نے روس سے شائع ہونے والے مارکسی لٹریچر کا بھی بڑے پیمانے پہ ترجمہ کیا۔ جن میں ’ملکیت کیا ہے؟‘ ’ سرمایہ کیا ہے؟‘ جیسے کئی مقبول کتابچوں قابلِ ذکر ہیں۔

آمریت کے خلاف جدوجہد میں مسلم لیگ ن میں شمولیت

پروفیسر حسن ظفر عارف نے اُس زمانے میں نوجوانوں کی بڑی رہنمائی کی اور قومی سوال اور قومی تضادات پر ایک شہرہ آفاق مقالہ تحریر کیا جو 80 کی دہائی میں ان کی سرپرستی میں نکلنے والا جریدے پاکستان فورم ہی میں شائع ہوا تھا اور جس نے قبولیت عام کی سند پائی تھی، تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد اور دو بار وزیر اعظم بننے کے باوجود سرمایہ داری کے خلاف موثر اقدام نہ اُٹھانے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث مایوس ہوکر وہ گوشہ نشین ہو گئے تاہم جب مسلم لیگ (ن) پر بُرا وقت آیا تو حسن ظفر عارف نے شمولیت حاصل کر کے آمریت کے خلاف کام کیا۔

ایم کیو ایم میں ساتھیوں سمیت شمولیت

میاں صاحب کے دوبارہ اقتدار میں براجمان ہونے کے بعد بھی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو حسن ظفر عارف ایک بار پھر گوشہ نشین ہوئے تاہم 15 مئی 2016 میں اپنے دیگر کامریڈ ساتھیوں مومن خان مومن اور ساتھی اسحاق کے مشورے سے ایم کیو ایم میں شمولیت میں حاصل کی اور بانی ایم کیو ایم کی متنازع تقریر کے بعد لگنے والی پابندی کے بعد بھی ایم کیو ایم لندن سے جڑے رہے۔بانی ایم کیو ایم نے  فاروق ستار سمیت اپنی جماعت کے تقریبآ تمام ہی رہنماؤں کی جانب سے اعلان لاتعلقی کے بعد 17 اکتوبر 2016 کو ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو ڈپٹی کنونیر نامزد کیا گیا تاہم 22 اکتوبر 2016 کو اپنی دوسری پریس کانفرنس کے وقت ڈاکٹر صاحب کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لے لیا تھا بعد ازاں انہیں 18 اپریل 2017 کو ضمانت پر سینٹرل کراچی سے رہا کردیا گیا۔

22 اگست کے بعد بھی بانی ایم کیو ایم کا انتخاب

ڈاکٹر حسن ظفر عارف اپنی رہائی کے بعد بھی ایم کیو ایم لندن کے لیے کام کرتے رہے جب کہ ان کے ساتھ حراست میں لیے گئے دیگر رہنماؤں امجد اللہ اور کنور خالد یونس نے سیاست سے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ بعد ازاں ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے جاری کیا گیا جس کے مطابق کراچی اور لندن میں تمام تنظیمی کمیٹیوں کو تحلیل کر کے ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو پاکستان میں انچارج مقرر کردیا گیا تھا اور وہ تنظیم سازی میں مصروف میں تھے، اُن کی لاش ملنے سے ایک روز قبل وہ ایک پارٹی مٹینگ سے اٹھ کر بیٹی سے ملاقات کا کہہ کر گھر روانہ ہوئے مگر بدقسمتی سے وہ گھر نہ پہنچ سکے۔

اتوار 13 جنوری 2018 کی صبح اہل خانہ کو پتہ چلا کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف ابراہیم حیدری کے علاقے میں اپنی کار کی پچھلی نشست پر مردہ پائے گئے ہیں جس کے بعد اہل خانہ نے جناح اسپتال جاکر لاش کی تصدیق کی جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد میت لواحقین کے حوالے کردی گئی۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کا جنازہ ان کے بھائی کے گھر واقع گلبرگ سے اُٹھایا گیا جب کہ نماز جنازہ فیڈرل بی ایریا کی مسجد دارالعلوم میں ادا کی گئی اس موقع پر اہل خانہ سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پولیس اور جناح اسپتال کی ایم ایس سیمی جلالی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا وہ عمر رسیدہ تھے اور سگریٹ نوشی کیا کرتے تھے اس لیے غالب امکان ہے کہ اُن کی موت دل کا دورہ یا فالج کے حملے کے باعث واقع ہوئی تاہم حتمی بات پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی کہی جا سکتی ہے۔

پروفیسر حسن ظفر عارف کے جسم پر تشدد کے نشانات اور جسم سے بہتے خون کی کئی تصاویر بھی سامنے آئیں، جبکہ اُن کے ساتھیوں نے اس معاملے پر آواز بھی اٹھائی، چند حلقوں اور نظریاتی کارکنان کا ماننا ہے کہ انہیں گمشدہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے دوران وہ دم توڑ گئے، پھر اُن کی لاش کو ابراہیم حیدری لے جایا گیا۔ پروفیسر حسن ظفر عارف نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن جیسی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی کام کیا اور انہیں منظم کیا، اُس کے باوجود اُن کی موت یا برسی کے موقع پر ماسوائے ایک کے کسی کی جانب سے بھی کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا جاتا۔