اسلام آباد: ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، ایف آئی اے نے برطانیہ سے مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے عدالت سے پھر وقت مانگ لیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گری عدالت میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایک اہم اور نیا موڑ سامنے آیا۔ استغاثہ نے برطانیہ سے شواہد حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر وقت مانگتے ہوئے برطانوی حکومت سے خط و کتابت کا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ برطانوی حکومت سے خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہے ، اس ضمن میں ایک اہم ای میل بھی موصول ہوئی ہے۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ امید ہے ہمیں شواہد اور کامیابی ملے گی لہذا عدالت مزید وقت فراہم کرے۔
ایف آئی اے کے دلائل سننے کے بعد عدالت نےاستغاثہ کو 24 مئی تک شواہد حاصل کر کے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’’24 مئی کو اگر شواہد جمع نہ ہوئے تو حتمی بحث کے لیے دلائل دیے جائیں‘‘۔
قبل ازیں عدالت نے بیرون ملک سے شواہد حاصل کرنے کیلئے مزید وقت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی تاہم اُسے اس بار منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو 24 مئی تک کی مہلت دے دی گئی۔ کیس کی سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔
