اسلام آباد: حکومت پاکستان نے آئندہ تین سالوں کے لیے پی آئی اے کا مکمل کنٹرول پاک فضائیہ کے حوالے کردیا، اہم مٹینگ گزشتہ دنوں ہوئی جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی تھی۔
انتظامی کنٹرول ملنے کے بعد پاک فضائیہ کے باوردی افسران اگلے تین سے چار سال تک پی آئی اے کو چلائیں گے اور یہاں سے بھی انہیں علیحدہ تنخواہیں دی جائیں گی، حکومت کی جانب سے یہ قدم ایئر مارشل ارشد ملک کے پی آئی اے میں بہترین کام کی وجہ سے اٹھایا گیا، یاد رہے کہ قومی ائیرلائن مسلسل خسارے میں ہے۔
ایئر وائس مارشل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ہائی لیول میٹنگ کی صدارت کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان سمیت اہم وزرا نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس کے دوران پی آئی اے کا کنٹرول پاک فضائیہ کو دینے کی منظوری دی گئی۔
میٹنگ میں پاک فضائیہ کے افسران کو تین سالہ ڈیپوٹیشن پر پی آئی اے میں بھجوانے کی منظوری بھی دی گئی۔ پاک فضائیہ کے یہ افسران تین سال تک وردی پہن کر پی آئی اے میں خدمات سرانجام دیں گے، اس کے علاوہ ایک سمری تیار کرنے کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت 4 پاک فضائیہ اور 4 پاک فوج کے افسران بیک وقت پی آئی اے میں تعینات کیے جائیں گے تاکہ وہ معاملات دیکھ سکیں۔
یاد رہے کہ ایئر مارشل ارشد ملک کو عارضی طور پر پی آئی اے کا سی ای او تعینات کیا گیا تھا لیکن اب اس بارے میں باقاعدہ اشتہار دیا جائے گا۔ اشتہار دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ خاص طور پر ارشد ملک کیلئے بنایا گیا ہے اور وہی پی آئی اے کے تین سال تک کیلئے سی ای او ہوں گے۔ ایئر وائس مارشل شعبان نذیر سید جو کہ پی آئی اے میں بطور مشیر اور چیف ہیومن ریسورس کام کر رہے ہیں انہیں بھی 11 فروری 2021 تک کیلئے ڈائریکٹر انجینئرنگ کمپلیکس تعینات کیا جائے گا۔
