کراچی کے علاقے سے لاپتہ سے لاپتہ ہونے والی ہمدرد یونیورسٹی کی طالبہ عروج صدیقی 63 روز بعد گزشتہ روز گھر پہنچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق عروج صدیقی 8 مارچ 2019 کو لاپتہ ہوئیں جس کے بعد اہل خانہ نے اُن کی تلاش کے لیے خاک چھانی اور پھر سوشل میڈیا پر آواز اٹھنے کے بعد آئی جی نے نوٹس لیا جس کے بعد شاہراہ فیصل تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے حسب سابق ابتدائی دنوں میں اہل خانہ سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہ کیا البتہ جب بات بہت آگے بڑھی اور سوشل میڈیا پر شور برپا ہوا تو اعلیٰ حکام نے اس کا نوٹس لیا اور بچی کی فوری بازیابی کے لیے ہدایات جاری کیں۔
جواں عمر بیٹی کے لاپتہ ہونے پر والد اور اہل خانہ شدید تذبذب کا شکار تھے، شاہراہ فیصل تھانے میں مقدمہ درج ہوا تو پولیس نے ٹیلی فون پر رابطے میں رہنے والے دو دوستوں کو حراست میں لیا اور پوچھ گچھ کے بعد انہیں رہا کردیا۔
عروج صدیقی دو روز قبل اچانک واپس اپنے گھر پہنچ گئیں اور انہوں نے بتایا کہ وہ ناراضی کی وجہ سے گھر سے گئی تھیں، اہل خانہ نے وکیل رانا آصف، تحریک انصاف کی رکن انیسہ، اینکر پرسن اقرار الحسن، ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ، ایف آئی اے ڈائریکٹر فیض اللہ کوریجو سمیت تمام حکام کا شکریہ ادا کیا۔
میڈیکل کی طالبہ کی گھر واپسی کی اطلاع سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شہزاد حسین نے دی۔ شاہراہ فیصل تھانے کے حکام نے لڑکی کی واپسی کی تصدیق کردی البتہ جب ذرائع کے نمائندے نے اہل خانہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے واپسی کی تصدیق کر کے تفصیلی گفتگو سے پرہیز کیا۔
