اسلام آباد: مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے اعتراف کیا ہے کہ چین نے پاکستان سے گندم، چاول اور آلو خریدنے سے صاف انکار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس پیپلزپارٹی کے رکن نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں مشیر اطلاعات نے کمیٹی کو بریفننگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ملک میں گندم کو ذخیرہ کرنے کے بہتر انظامات نہیں ہیں‘‘۔
پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے پارلیمنٹ کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ چین نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے پاکستان سے گندم، چاول اور آلو خریدنے سے انکار کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت گندم کے 45 ملین ٹن اضافی گندم موجود ہے مگر اس کو ذخیرہ کرنے کے وسائل موجود ہی نہیں، پنجاب کے علاقے ملتان اور رحیم یار خان میں بہترین گندم پیدا ہورہی ہے۔
عبدالزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان نے چین کو ایک ارب ڈالر کی گندم، چینی، آلو اور چاول برآمد کرنے کی پیش کش کی تھی جس پر چینی حکام نے خریداری کا وعدہ بھی کیا تھا مگر اب چین نے گندم، چاول اور آلو خریدنے سے صاف انکار کردیا۔ مشیر تجارت نے بتایا کہ چین کو ایک ملین ٹن چینی اور ایک ملین ٹن چاول برآمد کرنے کی آفر کی تھی تاہم وہاں سے صرف دو ہزار ٹن چینی خریدنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کو دو ہزار ٹن چینی برآمد کر ے گا، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چین کو ایکسپورٹ کی جانے والی گندم پر کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔
