تمرتا کماری کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، میڈیکل رپورٹ میں‌ تصدیق

لاڑکانہ کے میڈیکل کالج میں پڑھنے والے طالبہ نمرتا کی حتمی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی جس میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد باقاعدہ قتل کیا گیا۔آٹوپسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کو زیادتی کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔

یاد رہے کہ رواں سال ستمبر کے مہینے میں لاڑکانہ میڈیکل کالج میں پڑھنے والی طالبہ ڈاکٹر نمرتا کی لاش اُن کے کمرے سے برآمد ہوئی تھی، یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلا عطاء اللہ نے تفتیش سے پہلے ہی قتل کو خودکشی رار دے دیا تھا اور تفتیش میں کافی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش بھی کی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نمرتا کی موت گردن کی ہڈی ٹوٹنے اور دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی، نمرتا واقعے کی عدالتی تحقیقات تاحال جاری ہیں ، ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج اقبال میتلو کی جانب سے تحقیقات آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ، دوران تحقیقات تمام شواہد اور طبی رپورٹس جمع کی گئیں جبکہ نمرتا کا لیپ ٹاپ اوردیگررپورٹس بھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔ اب تک کالج افسران، عملے اور نمرتا کے ورثاء سمیت 50افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

Image

واضح رہے کہ 16 ستمبر کو لاڑکانہ کے چانڈکا میڈکل کالج کے ہاسٹل سے کراچی سے تعلق رکھنے والی طالبہ نمرتا کی لاش برآمد ہوئی تھی، کالج انتظامیہ نے واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی مگر مقتولہ کے بھائی ڈاکٹر وشال نے خودکشی کے امکان کو رد کیا تھا۔ بعد ازاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے نمرتا قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کرنے کی اجازت دے دی تھی، سیشن جج لاڑکانہ نے سندھ حکومت کی درخواست پر اجازت طلب کی تھی۔

Image

میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بار پھر نمرتا کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ زور پکڑ گیا اور صارفین نے JusticeForNimrita# لکھ کر اپنے اپنے انداز سے قتل کا معمہ حل کرنے کی درخواست کے ساتھ ساتھ مقتولہ کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: