Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ہمارا مقابلہ کسی سے نہیں ۔۔۔۔ تحریر:کامران رضوی | زرائع نیوز

ہمارا مقابلہ کسی سے نہیں ۔۔۔۔ تحریر:کامران رضوی

اللہ کا شکر کہ ہم ایک بار پھر IMF کہ شکرگزار ہوئے قرضہ اور ملا اور سجدہ شکر کرنے کا ایک اور موقع بھی مل گیا، عمران حکومت نے عوام کو دیا 6 ارب ڈالر تو ہاتھ آے دو تین ارب ڈالر کی بات بھی ہم کہاں جانے دیں گے عوام فکر نہ کرے وہ بھی حکومت کو مل جاٸیں گے تو پھر کیا ہوگا؟

ڈالر کا ریٹ کم ہوگا سونا سستا ہو جاٸیگا پیٹرول 50 روپے پر آجائیگا روٹی مفت ملی گی ہوگا کیا اس 8 یا 9 ارب ڈالر کا ۔ پرانے قرضوں کا سود ادا ہوگا نہ باقی تو ساری باتیں عوام جانتی ہے کہ یہ پیسہ کہاں کہاں لگے گا جب اپ 500 ارب روپے کا حساب نہیں دے پا رہۓ جو اپنے تھے ان 10 ماہ میں وہ حکومت کا سرمایہ تھے اور جب اپ اپنے سرمائے کو بھی ابھی ڈھونڈ رہۓ ہیں تو یہ ڈالرز تو IMF کے ہیں اور یہ وہ ڈالر ہیں جو اپکو دکھانے کے لیے ہوتے ہیں کہ یہ اپکے ہیں اور رہیں گے یا پھر اُسی کے پاس رہیں گے۔

یہ جرنل ضیاء کے دور کی بات ہے جب ہم نے امریکا سے قرضہ مانگا تھا امریکہ نے پوچھا کے بھائی قرضہ کیوں چاہیے تو جواب تھا کے چاول لینے ہیں آٹا لینا ہے پاکستان میں غربت ٹوٹ پڑی ہے ( مثال ) 5000 ڈالر امریکہ نے اسطرح دیے کے پہلے جو قرضہ لیا اسکا سود ادا کرو 5000 ڈالر سے لے لو بھئی سود 4000 اب اسمیں سے جو 5000 ڈالر لے رہۓ ہو اسکا سود بھی دو بچے 3000 چاول اور گندم بھی امریکہ سے لو وہ گندم جسکی بٸیر امریکہ نکال چکا ہے اسے سمندر غرق ہی کرنا تھا امریکہ کو مگر ہم بھکاری وہ گندم بھی لینے پہ راضی تھے اور وہ چاول بھی 5000 ڈالر کی خریداری کی امریکہ سے ہمارے پاس بچے تھے 3000 ڈالر 2000 کا مزید قرض سود کے ساتھ وہ اگلی قسط میں ادا کرینگے بس اسی صورتحال سے دوچار ہے۔

ہمارا پاکستان مقابلہ کریں بھی تو کس سے بنگلا دیش تو ہم سے بہت اگے نکل چکا 16.50 ڈالر امدنی ہے فی کس بنگالی کی جو بڑھنے جارہی ہے انٸیوالے وقت میں اور یہ بات حساب کتاب والے بتاتے ہیں کے 6000 امدنی فی کس ہونے جا رہی ہے بنگالی کی اور ہم فی کس پاکستانی ڈیڑھ لاکھ روپے کا بوجھ اٹھاۓ گھوم رہے ہیں بس لہجہ اور لہجے کی خوبصورتی میں اضافہ ضرور نظر اتا ہے جب ہم قرض کو پیکج کا نام دیتے ہی یہ بھی ایک حقیت ہے کہ کاروبار میں ملک چلانے میں یا گھر چلانے کے لیے قرضہ اب عام سی بات ہے بڑے بڑے ملک بڑی بڑی طاقتیں قرضہ لیتی ہیں اور اسے واپس کرنا احسن طریقے سے تمیز اور تہذیب میں شمار کیا جاتا ہے اور جو ملک، کاروباری گروپ یا گھر والا اگر قرضہ نہ ادا کرے تو چیزیں اونے پونے بکتی ہیں اب ان چیزوں میں زمین عمارتیں موٹرویز ریڈیو اسٹیشن ٹی وی اسٹیشن جو جو چیز قرض دینے والے کو اچھی لگے وہ لے سکتا ہے تو بجلی گیس کی کیا اوقات IMF جتنے کا بجلی کا بل دے اور جتنا چاہے گیس کا بل دے بھگتنا تو اب عوام کو ہے گرین لینڈ ٹرین جو کراچی سے اسلام اباد تک جاتی ہے اسکا کرایہ 5000 سے اج سات ہزار ہوگیا تو کیا ہوا عوام تو مجبور ہے جاٸیگی تو اسی گرین لینڈ ٹرین سےدیوالیہ ملک یا مقروض ملک اسکا انجام برا ہو یہ ضروری نہیں بس ہوتا اتنا ہے کہ ملک اور ملک کے ادارے طبقاتی تقسیم سے باہر جھانکتے ہیں اور پھر ایک طبقہ ہوتا ہے سب کا روس 1998ء میں دیوالیہ ہوا USSR ٹوٹنے کے کوئی اٹھ دس سال بعد غربت اور تنگداستی کا مقابلہ کیا اور دیوالیہ پن سے ازاد ہوا اج کا روس ایک مرتبہ پھر بڑی طاقتوں میں شمار کیطرف رواں دواں ہے ارجنٹائن 2001ء میں دیوالیہ ہوا تو کیا ارجنٹائن ٹوٹ گیا یونان بکھرا کیا دیوالیہ ہو کے 2015ء سے 2019ء ہے یونان کی محنت اور یونانیوں کی لگن یونان کو مضبوط کر رہی ہے وینزویلا 2017ء میں دیوالیہ ہوا تیل کی مقدار دنیا بھر کے لیے بہت ہے اسکے باوجود فساد نے وینزویلا کو دیوالیہ تک پہنچا دیا کیا یہ چاروں ملک اور قرضہ لیکر دیوالیہ ہونے سے خود کو بچا لیتے اچھے بڑے اور تاریخی ملک ہیں ان کو احساس نہیں ہوا کہ ملک دیوالیہ ہو گیا تو دنیا کیا کہے گی بس یہ احساس ہے پاکستان کو کہ قرضہ پہ قرضہ لو بس دیوالیہ نہ ہو ملک جبکہ اصل مسلہ یہ ہے کہ IMF ورلڈ بینک ایشین بینک سب اپکو قرضہ دینگےقرضہ لینے کی پہلی اور کڑی شرط ایران پر ہونے والے اس امریکی حملہ کی ہے جو جلد اور کچھ ہی دن میں ہونے والا ہے نجومیوں نے 20 رمضان کی نوید دی ہے اور پاکستان کیوں کچھ کہہ گا اسکی سوچ اسکا نظریہ اپنا ہے کویت عراق مصر لیبیا دمشق اور شام میں جب جب حملہ ہوا ہم سعودیہ کی طرح کا رویہ اپناتے رہۓ اسلامی مملکت ہونے کا دعویٰ دعویٰ ہی رہا اور اب بھی پاکستان کی زمین بھی استعمال ہوگی افغانی جو ایران میں پناہ گزین ہیں لاکھوں کی تعداد میں وہ سب پاکستان کی طرف رخ کرینگے دیکھنا ہمیں صرف یہ ہے کہ کتنے دن سعودیہ اور پاکستان امریکی حملوں سے بچینگے ایک بات جو میں اکثر لکھتا ہوں کے پاکستان کو مذہبی فرقہ واریت سے ازاد کرو اور ملک میں شہروں کو صوبہ بناو دنیا تو نہیں بدلے گی مگر اسلامی ممالک بدل رہے ہیں …