Internet Service in Karachi

کراچی شہر میں انٹرنیٹ ڈیلرز میں آپس میں لڑائی، ایک دوسرے پر جھوٹے الزامات لگانے شروع

کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ رہتے ہیں. بہت سے لوگ یہاں نوکری کرنے کے لئے آتے ہیں اور بہت سے لوگ یہاں کاروبار کرنے کے لئے آتے ہیں. کراچی کو روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں زندگی دوپہر کے بعد شروع ہوتی ہے اور رات دیر تک چلتی ہے. کراچی میں انٹرنیٹ کی بہت ساری کمپنی کام کر رہئ ہیں. ان سب کمپنیوں کے نیچے بہت سارے ڈیلر اور سب ڈیلر موجود ہیں جو مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروس فرام کر رہے ہیں. حال ہی میں کراچی میں پی ٹی اے نے ایک مہم شروع کی جس کے تحت ان ڈیلرز اور سب ڈیلرز کو اپنے آفس بلا کر ہدایت جاری کی گئی کہ آپ اپنے نام کی سلپ نہیں دے سکتے ہیں کسی بھی صارفین کو آپ کو کمپنی جس سے آپ نے سروس لی ہے اس کی سلپ دینی ہوگی. اس کی وجہ یہ تھی کہ 2019 جولائی میں لگایا گیا انٹرنیٹ صارفین پرٹیکس ایک ہی کمپنی سے آسانی کے ساتھ پاکستان گورمنٹ کے پاس آجائے. اس کی وجہ سے بہت سے سبڈیلیرز کے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے ٹیکس کو لے کر اور لوگوں نے خود کمپنیوں سے رابطہ شروع کرکے نئی نئی سروسس دوسروں کے علاقے میں شروع کردی.

کراچی میں انٹرنیٹ کے حوالے سے شروع ہونے والی لڑائی سے صارفین کو تو کوئی مسلہ نہیں ہوا بلکہ ان کے لئے آسانی ہو گئی کہ انکو وہی سروس سستے ریٹ میں دوسرے ڈیلر سے ملنے لگیں لیکن اس سے نقصان اس ڈیلر کو ہوا جو پہلے سے اس علاقے میں سروس چلا رہا تھا اس کے صارفین اس کے پاس سے دوسرے کے پاس جانے لگے. دوسرے کے علاقے میں کام کرنے کے لئے نئے آنے والے ڈیلر نے سروس چارجز اتنے سستے کردئے کہ لوگوں کو پرانے کو چھوڑ کر نئے کے پاس جانا اچھا لگا. نئے آنے والے ڈیلرز نے انٹرنیٹ سروس چلانے والے کو تو نقصان پہچایا اور اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں جو ٹی وی کیبل چلا رہا تھا اس کو بھی نقصان پہچایا. اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اسی ریٹ میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ٹی وی کیبل فری میں دینا شروع کردیا. جس کی وجہ سے علاقے میں کام کرنے والے ٹی وی کیبل والے کے پاس سے بھی کنیکشن ختم ہونے لگے.

اس حوالے سے انہوں نے علاقے میں موجود بااثر لوگوں سے رابطہ کیا اور ان کے ذریعے انہوں نے علاقے میں اپنی رائین ڈالی تاکہ وہاں موجود پہلے سے کام کرنے والا کچھ نہ کر سکتے. کراچی میں ایک علاقہ ایسا تھا جہاں ان کی سپورٹ ایم کیو ایم پاکستان کے موجودہ بلدیاتی جنرل کونسلر نے کی. کیونکہ اس کے مراثم پرانے والے ڈیلر سے ٹھیک نہیں تھے. نئے ڈیلرر نے جس سے لائین لی ہوئی تھی جب علاقے میں بات کرکے واپس جا کر اپنے مین ڈیلر کو بتانا شروع کیا تو اپنے پاس سے باتیں اس میں ڈال کر بتایا. جس کی وجہ سے علاقے میں موجود ڈیلرز کے پاس کام کرنے والوں پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی کہ اس نے ان سے بات کرکے کیا کیا بولا ہے اور پہلے سے کام کرنے والوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونا شروع ہو گیا. جس کا سب سے زیادہ فائدہ نئے آنے والے نے اٹھایا. اگر یہ کہا جائے کہ نئے ڈیلر نے نئے علاقے میں کام کرنے کے لئے ایڑا بن کر پیڑا کھانے کی سازش رچی تو گلت نہیں ہوگا.

اصل میں یہ لڑائی سب سے نہیں ہے لیکن اس سے نقصان علاقے میں موجود پرانے تمام کام کرنے والوں کو ہوگا. کیونکہ جس ایک سے لڑائی ہے وہ بھی اسی علاقے میں لائین چلا رہا ہے اور دوسرے پرانے ڈیلر بھی اسی علاقے میں کام کر رہے ہیں. لیکن نئے آنے والوں نے تمام کی بجا کر اپنی چلانے کے لئے ان میں بھوٹ ڈالنے اور ان کے علاقے میں قبضہ کرنے کے لئے جھوٹ اور لگائی بھجائی کرنا بھی شروع کردی ہے. اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے کراچی شہر میں ناتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی ہیں جہاں اس طرح کام کیا جا رہا ہے.

اس لڑائی سے بہت سارے لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور بہت سارے لوگوں کا چلتا ہوا کاروبار بند ہو جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں: