رپورٹ: قمبر رضوی
کراچی کے ایم اے جناح روڈ سے ہر سال گزرنے والے یوم علی کے جلوس کو گرین لائن بس منصوبے کے ترقیاتی کام کی وجہ سے اب وہاں سے نہیں لے جایا جائے گا بلکہ اس کا روٹ تبدیل کردیا گیا جس کی منظوری انتظامیہ سے جلوس انتظامیہ نے لے لی۔
یوم علی کی مجلس نشتر پارک میں ہوگی اُس کے بعد جلوس بجائے نمائش سے کپیری اور سیون ڈے کے بجائے نوائے وقت چورنگی سے نکلنا شروع ہوگا، قائد اعظم کے مزار سے پیپلزپارٹی سیکریٹریٹ اور پھر وہاں سے نیو ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا ایمپریس مارکیٹ پھر صدر پہنچے گا۔
صدر کے بعد جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر حسینیہ امام بارگاہ پر مغرب پر اختتام پذیر ہوگا، سیکیورٹی انتظامات کے تحت نیو ایم اے جناح روڈ کو مکمل بند کیا جائے گا جبکہ اطراف کی گلیوں سے بھی آمد و رفت کو روکنے کے لیے کنٹرنیٹنر لگائے جائیں گے جو پہنچائے جاچکے۔
گرومندر سے تمام روٹس بند ہوں گے اسی طرح سولجر بازار کا راستہ کھلا ہوگا تاہم صدر بند ہونے کی وجہ سے تبت سینٹر سے مین سڑک پر نہیں آیا جاسکتا۔
شہر کے وسطی یا جنوبی علاقوں والے حضرات کے پاس ٹاور یا صدر جانے کے لیے واحد راستہ شاہراہ فیصل ہی بچے گا، اس کے علاوہ تمام راستے سیل یا ترقیاتی کام کی وجہ سے بند ملیں گے۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ جلوس کے نئے روٹ کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بری طرح سے متاثر ہوگا، سیکیورٹی کے نام پر شہر کو بند کرنے سے بہتر تھا کہ امسال جلوس کے شرکاء شہر کے بجائے سہراب گوٹھ یا وادیٔ حسین کا انتخاب کرلیتے تاکہ روزے داروں یا شہریوں کو پریشانی سے بچایا جاسکتا۔
دوسری جانب سیکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جلوس کی گزر گاہ پر 5 ہزار سے زائد پولیس اور 2 ہزار کے قریب رینجرز اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ بلند عمارتوں پر اسنائپرز اور پولیس کمانڈوز کو بھی تعینات کیا جائے گا، جلوس کی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کی جائے گی اس کے علاوہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ راستے کو کلیئر کرے گا۔

