Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری ظاہر، 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور | زرائع نیوز

رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری ظاہر، 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

بنوں: ایک روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں واقع بویا کے قریب خارکمر چیک پوسٹ پر دراندازی کے بعد گرفتار ہونے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا۔

اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت 9 افراد کے خلاف دہشت گردی کی 10 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ایک روز قبل گرفتار ہونے والے علی وزیر کو سخت سیکیورٹی میں بنوں کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

محسن داوڑ کو صبح علی وزیر سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سی ٹی ڈی کی استدعا منظور کرتے ہوئے علی وزیر کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر حوالے کردیا۔

دوسری جانب ایچ آر سی پی نے شمالی وزیرستان واقعے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ کردیا۔  پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستان کی فوج اور پشتونوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان جھڑپ کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال سے پی ٹی ایم کے تین کارکن ہلاک ہوئے جس کے بعد پی ٹی ایم کے کارکنوں اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی۔ اتوار کو شمالی وزیرستان پر فوج کی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم اور سکیورٹی اہلکاروں کے مابین جھڑپ میں کم سے کم تین کارکن ہلاک اور دس زخمی ہوئے تھے جب کہ فوج کا کہنا تھا کہ اس جھڑپ میں چار فوجی اہلکار زخمی اور ایک ہلاک ہوا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی فوج نے رات گئے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پشتون تحفظ تحریک کے مابین چیک پوسٹ پر ہونے والے تصادم کے بعد علاقے سے مزید پانچ لاشییں برآمد ہوئی ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

فوج کے بیان میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان ہلاک شدگان کا تعلق اتوار کو پیش آنے والے واقعے سے ہے یا نہیں ہے۔ دوسری جانب پی ٹی ایم کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں اب تک جاں بحق ہونے والی کی تعداد 13 تک پہنچ گئی۔