او آئی سی اجلاس:‌ سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

ریاض: سعودی عرب کے شہر مکہ المکرمہ میں ہونے والے او آئی سی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو اور بیت المقدس کی آزادی کو امتِ مسلمہ کا بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیہ: فلسطین مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ ہے، عالمی قراردادوں کے مطابق فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے، مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے، آزاد اور خودمختار ریاست میں زندگی بسر کرنا فلسطینیوں کا ھنیادی حق ہے۔

اجلاس میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ اسے عالم اسلام پر حملے کے مترادف قرار دیا گیا، اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ہر قسم کی دہشت گردی، انتہاء پسندی اور تعصب پسندی پر حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

او آئی سی اجلاس کے شرکاء نے خطے میں بد امنی اور سعودی عرب پر ہونے والے حملوں بالخصوص حال ہی میں تیل کی پیداوار والی کمپنیوں پر حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا جبکہ عالمی برادری سے خطے میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ دہشت گردی کوشہریت، مذہب یا کسی علاقے سےنہیں جوڑا جاسکتا، او آئی سی نے مذہب اور رنگ نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے نفرت، امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے برداشت، احترام، بات چیت اور تعاون پر زور دیا۔

اجلاس میں ترکی، قطر اور ایران کے علاوہ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔