اسلامی ممالک کے سربراہان سے عمران خان کا خطاب

مکہ المکرمۃ: وزیراعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے او آئی سی کے 26 ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امت مسلمہ کو درپیش مختلف چیلنجز سے آگاہ کیا۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ناموس رسالت اور توہین رسالت کے مسئلے پر تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو چاہیے کہ ہم سب مل کر یوپین یونین اور اقوام متحدہ جائیں اور وہاں پر اپنی آواز بلند کریں کہ ’’توہین اور ناموس رسالت دراصل آزادی اظہارِ رائے نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے‘‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا جب کہ او آئی سی کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے، اسلام فوبیا اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا۔

مغرب ابھی تک اسلام کی غلط تصویر پیش کررہا ہے، کوئی بھی مذہب انسانی قتل و دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ دینِ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، مغربی دنیا کو بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے اسلام فوبیا سے باہر نکلنا ہوگا، مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کو معصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، بیت المقدس فلسطینیوں کا دارالحکومت ہےاور گولان کو فلسطین کا حصہ ہونا چاہیے، وزیراعظم نے زور دیا کہ مسلم ممالک جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کو ترجیح دیں، انہیں جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی پر رقم خرچ کرنی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ جب کوئی پیغمبر اسلام کی توہین کرتا ہے تو یہ ہماری ناکامی ہے، ہمیں مغرب کو بتانا چاہیے کہ پیغمبر کی توہین پر ہم کتنا دکھ محسوس کرتے ہیں، یہودیوں نے دنیا کو بتایا ہےکہ ہولوکاسٹ کی غلط توجیح سے انہیں دکھ ہوتا ہے۔

عمران خان نے انکشاف کیا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں پر حملے بڑھ گئے جبکہ فلسطینوں کو بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا، ہم تمام اسلامی ممالک کو ان کی مکمل معاشی اور مالی مدد کے ساتھ اُن کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔