Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج، 11 نوجوان گرفتار | زرائع نیوز

پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج، 11 نوجوان گرفتار

کراچی: رمضان کے آخری ایام سے شہر قائد میں پانی کی شدید قلت ہیں، بالخصوص ڈسٹرکٹ سینٹرل کے مختلف علاقوں میں پانی نایاب ہوگیا جبکہ واٹرٹینکر مافیا کی چاندنی لگی ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قلت آب سے تنگ شہری سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے مظاہرے شروع کیے تو پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے 11 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ نیوکراچی، ناظم آباد، لیاقت آبادماری پوڑ میں عوام خالی برتن لے کر سڑکوں پر آگئے اور خالی برتن اٹھا کر احتجاج کیا۔

مظاہرین نے واٹر بورڈ کے خلاف نعرے بازی کی اور گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوا، مظاہرین نے ٹائر نذر آتش بھی کیے۔

پولیس نے اتوار کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اُن ہی علاقوں سے 11 نوجوانوں کو گرفتار کر کے کار سرکار میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کرلیا۔

کراچی کی کسی بھی جماعت کی جانب سے پانی کی عدم فراہمی کی مذمت نہیں کی گئی جبکہ تحریک انصاف کے اراکین نے گزشتہ روز خانہ پوری کے لیے واٹر بورڈ دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ ذرائع کے مطابق علاقہ مکینوں نے تھانوں کا گھیراؤ کیا تو پولیس نے مظاہرین کو چوبیس گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا بھی کردیا گیا۔

شہر میں پانی کا ٹینکر جو عام دنوں میں 1500 روپے کا ملتا ہے اب وہ شہری ساڑھے چار سے پانچ ہزار روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، لیاقت آباد میں پانی ٹینکر کے لیے رہائشیوں کو چار چار روز تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جب واٹرٹینکرز کو پانی مل سکتا ہے تو گھروں میں بھی پانی سپلائی کیا جائے، سیاسی پشت پناہی کے ساتھ واٹر بورڈ صرف ہائی ڈرینڈز پر پانی فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ افسران کو کرپشن کے پیسے ملتے ہیں۔