بات کہاں سے اور کیسے شروع کروں بے انتہا شرمندگی ہوتی ہے جب ملک کے خلاف کوئی بات کرے میری اس بات کی یا میری کسی بھی بات کی کوئی اہمیت کیوں ہوگی نہ تو میں بادشاہ نہ میں جمہوریت پسندی کا وزیراعظم نہ میں کوی منسٹر ایک عام سا شہری اور سیاسی کارکن ہوں جو بغیر کسی FIR کے سیاسی پرامن جدوجہد کرتا ہوں اپنی ساری جدوجہد میں پریشانی وہاں بہت زیادہ ہوتی ہے جب کوئی ملک کے خلاف بات کرے پاکستان کے خلاف نفرت کا اظہار کرے کھیلوں میں تو شدت اجاتی ہے اور غصہ و جذبات میں بات ملک کے خلاف بھی ہوجاتی ہے لیکن وہ غصہ یا جذبات چند منٹ کے ہوتے ہیں اور بات ختم ہوجاتی ہے مگر پاکستان میں کا کھانے والے ملک کے وزیر اعظم یا صدر بننے والے اگر اپنی میگا اکاونٹس کرپشن اور پانامہ لیکس میں کرپشن کے زریعہ پیسا بھجوانے پر اگر بڑی مشکلوں سے گرفتار ہوگئے ہیں تو کیا انکی یہ زمہ داری ہے کے وہ پنجاب سندھ اور کراچی میں ملک کے خلاف اپنے کارکنان سے نعرے بازی کرواٸیں کے ”یہ جو ریفرنس گردی ہے یہ سب فوجی گردی ہے“ اور ” پاکستان نہ کھپے “۔
کارکنان بھی کون سٹی کورٹ میں موجود پڑھے لکھے کالے کوٹ پہنے وکیل اج 13 جون کی صبح یہ تعصبی اور نفرت انگیز کام ہوا اور پنجاب میں ارمی چیف کو گالیاں دینے کا عمل پنجاب کے سرکردہ لیڈر کی بیٹی کے جلسہ عام میں عام بات ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پاکستان کے خلاف یہ نفرت انگیز کام کر رہی ہیں اصف زرداری کو جھوٹے اکاونٹس کیس میں نیب نے گرفتار کیا 10 جون کو اور ملک کے خلاف یہ بربادی کے نعرے 12 اور 13 جون کو لگے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کے جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ کے ریفرنس پر ہڑتال یا ریفرنس پہ گفتگو کے بجائے کراچی اور پورے سندھ میں اور زرداری سے جڑے مسلم لیگی وکیل بھرپور غنڈہ گردی کا اظہار کرینگے اور وہ وہ نفرت انگیز نعرے لگینگے جو ہم اپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی نفرت اور تعصبیت سے بھری سیاست میں زرداری کے پروڈکشن ارڈر کی بات کیا دھونس دھمکی نہیں اور اس دھونس دھمکی کو ملک کی سطح سے جوڑنا کیا آٸین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں ہمیں پتہ ہے ہم جانتے ہیں کے سابق صدر اور سابق وزیراعظم سے اب تک سنگل پیسہ ملکی خزانے کو نہیں ملا گرفتاری تو شاٸد انکا اب مسلہ ہی نہیں کیونکہ مورثی سیاست کو اگے بڑھانے میں دونوں قیدی اپنا اپنا قبلہ درست کر چکے ایک کی بیٹی جبکہ دوسرے کا بیٹہ اور بیٹے کے بعد پھر بیٹی اور وہ جو ابتدہ سے زرداری کی منگنی سے پہلے سے جو رہنما اور کارکن سیاست کر رہے ہیں ان سب کو موروثی غلامی مبارک ہو اور بلکل ایسے ہی مسلم لیگ ن کے رہنما اور سیاسی کارکن جو نوازشریف کے ساتھ ابتدہ سے ہیں انہیں غلامی مریم مبارک اور اگر مریم گرفتار ہوتی بھی ہیں تو حمزہ شہباز رہوگے تم سب موروثی غلام اور بہت زیادہ جو غیر سیاسی بدتمیزی اپ موروثی غلام کر رہۓ ہو وہ ملک کے خلاف نفرت انگیز سیاست ذرا سا ہوش میں تو آو پنجاب کی سیاست میں کچھ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگر لاہور کو ایک خوبصورت شہر تو بنا دیا جنوبی پنجاب صوبہ بھاولپور صوبہ بنانے کی بات تو ہو رہی ہے اور تم سندھیوں بتاو اور پوچھو اپنے بادشاہ زرداری سے کے سندھ کا کونسا شہر تم لوگوں نے بنایا سندھ کا کوٸ ایک شہر لاڑکانہ جہاں کے مزار پہ تم لوگ سیاست کرتے ہو کیا بنا لاڑکانہ نوابشاہ جہاں کا زرداری خود ہے کیا بنایا نواب شاہ کو تمہاری حکومت نے تو بنا بنایا روشنیوں کا شہر برباد کردیا اور پھر تم سٹی کورٹ میں کھڑے ہو کے کہو کے پاکستان نہ کھپے سٹی کورٹ کے ججز کہاں تھے رینجرز پولس کہاں تھی المیہ تو یہ ہوا اج کے محسن واڈہ اور علی وزیر جیسے وہ دہشت گرد جو فوجیوں کی شہادت میں ملوث ہیں انکی ضمانت کی باتیں ہو رہی ہیں یہ حشر ہے اسوقت ملک کا
رینجرز نے ایک اپریشن ناٸین زیرو پہ کیا ناٸن زیرو متحدہ قومی موومنٹ کا مرکزی دفتر ہے جسے ناٸن زیرو خورشید بیگم میموریل ہال کہتے ہیں رینجرز نے چھاپہ مارا اور گرفتاریاں کیں پھر اپنی سیکیورٹی کے لیے جو اسلحہ ایم کیو ایم لاٸسنس یافتہ رکھتی تھی اس اسلحہ کو بھی پکڑا رات گئے رینجرز نے اپریشن شروع کیا اور صبح ہوگٸی صبح وہاں ایم کیو ایم کے کارکنان و رہنما پہنچنا شروع ہوے لیکن یہ سب کے سب مکہ چوک پر جمع تھے نہ کوئی نعرہ نہ ملک سے ازادی کی بات جبکہ وہاں موجود ایک جوان ساتھی کارکن وقاص شاہ جاں بحق بھی ہوا۔
عامر خان گرفتار بھی ہوے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے خطاب بھی کیا لیکن پاکستان نہ کھپے جیسا ذہر کسی نے نہیں تھوکا پھر اسکے بعد 22 اگست 2016 بھی آتا ہے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے جذبات میں شدت تھی غصہ تھا کرلی ملک کے خلاف بات رینجرز نے طعبیت صاف کی ایم کیو ایم کی ناٸین زیرو اور خورشید بیگم میموریل اور KKF پہ سیل لگا دی بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کا نام تک لینے پر پابندی تھی سیکٹر اور یونٹ افسز بند نہیں ہوے بلکہ توڑ دیے گۓ بہت سے ساتھی لاپتہ ہوگۓ بہت سے اسیر ہو گۓ لیکن یہ نعرے ایم کیو ایم نے نہیں لگاے کے یہ جو اپریشن گردی ہے یہ فوجی گردی ہے یا پاکستان نامنظور ایسا کوٸ گھٹیا کام یا نعرہ نہیں لگا ہاں بانی ایم کیو ایم سے الگ ضرور کروا دیے گۓ تو میں اب سوچتا ہوں کہ اج میرے ملک میں فوج کو ماں بہن کی گالیاں دینی میری فوج کو پاکستان کے خطہ میں بارودی سرنگوں سے شہید کرنا اور پاکستان نہ کھپے جیسا نفرت انگیز ذہر تھوکنا تو عام ہوا لیکن یہ عام سندھی بلوچ پشتون اور پنجاب کی حد تک ہے۔
کراچی یا سندھ کے شہری علاقوں میں اباد مہاجروں کے لیے یہ بات یا یہ نعرہ عام نہیں یہ وطن مہاجروں کا ہے اور ان سب کا ہے جو رہتی دنیا تک پاکستانی پرچم تھامے ہوئے ہیں وقت کٹھن ہے اور اسے آپکی مضبوطی بہار کی طرف لے جاٸیگی بہتر ہوگا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے لیے بھی راستہ ہموار کیا جائے۔
کامران رضوی
14 جون 2019
