جمشید روڈ پر زندگی بسر کرنے والی باہمت بچی شہلا

جمشید روڈ پہ مکینک سے اپنی کار کی ٹیوننگ کرواتے ہوئے میری نظر اس بچی پہ پڑی جو بڑے انہماک سے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ گاڑی کا کام ختم ہونے میں گھنٹہ بھر تو لگا ہو گا، اس عرصے میں بچی نے اپنی نوٹ بک سے ایک لمحے کے لیئے بھی نظر نہیں اٹھائی۔

میرا گمان یہی تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ بچی گھر کے بجائے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہوم ورک کرنے پہ مجبور ہے مگر میرا گمان غلط نکلا ۔ میں نے دیر تک بچی سے باتیں کیں، دیر تک کرب کی کیفیت میں رہا اور بالآخر دل گرفتہ و دل گیر اٹھ کر چلا آیا ۔

شہلا کی عمر ۹ یا ۱۰ سال ہے، ۵۵ سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا اور شہلا دنیا میں اکیلی رہ گئی ۔ شہلا کا کوئی بھائی یا بہن نہیں، وہ اپنے والد کے ساتھ دن بھر جمشید روڈ کے فٹ پاتھ پہ رہتی ہے اور رات کو قریب ہی بجری والوں کے تھلے پر جا کے سو جاتی ہے۔

 اللہ مجھے اس بدگمانی پہ معاف کرے مگر مجھے تو اس کا والد بھی موالی قسم کی چیز لگا جو گاڑیوں کی صفائی سےملنے والے چند روپوں سے اپنی اور شہلا کی بھوک بہ مشکل مٹا پاتا ہوگا۔

شہلا کو مصروف رکھنے کی خاطر اس کے والد نے شہلا کو کباڑ کے ٹھیلے سے ایک پرانی سی نوٹ بک لے دی ہے جس کے تمام صفحات کسی اسکول کے بچے کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیںمگر شہلا کاپی میں لکھے ہوئے الفاظ اور جملوں کی ہو بہو نقل کرتی ہے اور اپنے طور پر یہ سمجھتی ہے کہ اسے لکھنا آ گیا ہے ۔

علم کے حصول کا جنون رکھنے والے یہ بچی اپنے ہی تحریر کیے الفاظ پڑھ اور سمجھ نہیں سکتی تاہم اُسے یہ اطمینان ہے کہ اس کے تحریر کردہ الفاظ کاپی میں پہلے سے لکھے گئے الفاظ سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

شہلا کا کہنا ہے کہ اُسے اسے پھول بنا نے بھی آگئے اور اس نے اپنی نوٹ بک میں پیارا سا گھر بھی بنا یا ہے ۔ کاپی کے بوسیدہ اوراق پر بنا ہوا یہ آڑھا تیڑھا گھر شائد اسے انجانے مستقبل کے حوالے سے احساس تحفظ بھی دیتا ہو لیکن میرے اندیشے تو کچھ اور ہیں ، مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ آئندہ دو تین برسوں میں جب یہ ۱۲ یا ۱۳ برس کو پہنچے گی تو بھیڑیوں سے بھرے جنگل میں اس کا بسیرا مشکل ہو جائے گا۔

اللہ اس بچی کی حفاظت فرمائے ۔۔ میں جب سے شہلا سے ملا ہوں تب ہی سے اس کے متعلق سوچتا رہتا ہوں ۔۔ میں اپنے احباب سے بھی ملتمس ہوں کہ  وہ آگے آئیں اور اس بچی کو تحفظ اور تعلیم فراہم کرنے کا کوئی انتظام کریں۔

ضروری ہے کہ کچھ دوست اس بچی سے ملیں ۔۔ پھر ہم سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی تدبیر  بنائیں تاکہ بچی کا مستقبل محفو ظ ہو  ‘مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی’ شہلا کے لیئے ضرور کچھ اسباب کا بندوبست فرما دیں گے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: