کراچی: پرائیوٹ اسکول ٹیچر کا طلب علم پر تشدد

کراچی(کرائم رپورٹر)کورنگی بلال کالونی میں پرائیوٹ اسکول کی ٹیچرکا تیسری جماعت کے طالب علم پر تشدد،آنکھ سوجھنے اور خون بہنے پر خفیہ اسپتال لے گئے اور بچے کو چھٹی کے ٹائیم پرچھپا دیا،بچہ گھر نا پہنچنے پر ماں تلاش کرتے ہوئے اسکول پہنچی تو بچے کی حالت دیکھ کر دھاڑے مار کررونے لگی۔

پولیس کو رپورٹ درج کرادی گئی،ٹیچر سے غلطی ہوئی ہے وہ اسٹک ہاتھ پر مارہی تھی غلطی سے آنکھ پر لگ گئی،پرنسپل ارشد ۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں پرائیوٹ اسکولوں کی جانب سے بچوں پر تشدد کے واقعات سامنے آنے لگے۔

کورنگی صنعتی ایریا تھانے کی حدود کورنگی بلال کالونی سیکٹر8/Aگلی نمبر چار مکان نمبر88کے رہائشی محمد نعیم ولد محمد سلیم نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی۔

نعیم نے پولیس کو بتایا کہ اس کے کزن شکیل حیدر پرائیوٹ اسکول میں تیسری جماعت کا طالبعلم ہے،اس کوٹیچر رضوانہ نے اسٹک کے ذریعے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا،جس کی وجہ سے بجے کی آنکھ سوجھ گئی اور خون بہنے شروع ہوگیا۔ بچے کی آنکھ سے خون نکلنے اور رونے پر والدین کو اطلاع دیئے بغیر اسے نجی اسپتال لے گئے اورعلاج معالجہ کرایا،بعد ازاں اسکول کی چھٹی ہوگئی۔

 نعیم نے مزید بتایا کہ اسکول انتظامیہ نے پولیس کے کارروائی کے ڈر سے طالب علم کو چھٹی نہیں دی،بچہ گھر نہیں پہنچا تواس کی والدہ غلام سکینہ بچے کو تلاش کرتی ہوئی اسکول پہنچی اسی دوران پرنسپل ارشد علی نے سوری کر کے جان چھڑائی۔

والدین نے بتایا کہ میں شام کو پہنچے تو بچے کی آنکھ سوجھی ہوئی تھی تھانے میں جاکر رپورٹ کرائی،ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل ٹیچر ریاض اور دیگر اسٹاف بھی اسی طرح بچوں پر تشدد کرتے رہتے ہیں۔

پرنسپل ارشاد بجائے اسکول کی بہتر دیکھ بحال کے لیڈی ٹیچرز کے ساتھ تعلقات بنانے میں لگا ہوتا ہے،اس ضمن میں اسکول کے پرنسپل ارشد علی کا کہنا تھا کہ ٹیچر رضوانہ سے غلطی ہوئی ہے وہ اسٹک ہاتھ پر مار رہی تھی غلطی سے آنکھ پر لگ گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: