کراچی: بلدیہ شرقی (ڈسٹرکٹ ایسٹ) میں بے ظابطگیوں کے خلاف متحدہ ورکرز فرنٹ میدان میں آگئی اور اس ضمن میں محکمہ لوکل ٹیکس،ریکوری اور ایڈورٹائزمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی نجکاری کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کا ایک سال سے بند میڈیکل بحال کیا جائے،اوپی ایس افسران کو ہٹایا جائے، مذکورہ ڈیپارٹمنٹ کو گذشتہ ایک سال سے نجی افراد کے ذریعے چلایا جارہا ہے، ٹریڈ لائسنس کی بہترین ریکوری کے باوجود اس شعبے کی نجکاری سمجھ سے بالاتر ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے نجکاری کے ذریعے بھاری کک بیک وصول کیا جارہا ہے، افسران وملازمین اپنے ہی دفاتر کے باہر بیٹھنے پر مجبور کردیا گیا ہے، اداروں کی نجکاری ماضی کی کرپشن کو چھپانے اور تحقیقاتی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ اسٹاف کو فیول کی بندش جبکہ افسران کو دھڑا دھڑ پیٹرول دے کر کرپشن کو ہوا دی جارہی ہے، میونسپل کمشنر نے قائد قوانین نذر انداز کرکے اپنی مرضی کے قوانین نافذ کررکھے ہیں اور ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین شرقی معید انور یا رابطہ کمیٹی میونسپل کمشنر کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں نہ ہی اس ضمن میں مذاکرات کیے گئے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے لیبر ڈویژن نے بھی مظاہرین کی حمایت کردی جس کے بعد تنازع بڑھنے کا خدشہ ہے، اس ضمن میں آج لیبرڈویژن شرقی کے عہدیدار نے بہادرآباد مرکز میں بھی ایک درخواست جمع کرائی جس میں ایم سی کے خلاف کارروائی اور معاملے کو دیکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے تاحال معاملے کے حل یا ایم سی سے بات چیت کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ تین رکنی رابطہ کمیٹی کے وفد نے مظاہرین اور چیئرمین شرقی سے ملاقات بھی کی۔
بلدیہ شرقی ایم سی اختر شیخ سمیت دیگر ناانصافیوں کے خلاف متاثرہ ملازمین اپنے حقوق کے لیئے باہر نکل آئے مظلوم ملازمین کے حقوق او ر انکی حق تلفی ہونے پر متحدہ ورکرز فرنٹ میدان عمل میں،ڈی ایم سی ایسٹ میں مختلف محکموں پرائیوٹ بندوں کے نوکری کرنے کی اطلاعات چیئر مین معید انور لاعلم ہیں، ذرائع کے مطابق بلدیہ شرقی میں لوکل ایڈورٹائزمنٹ میں ہونے والی لوٹ مار10کروڑ روپے ماہانہ ہے۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق مبینہ طور پر تمام غیر قانونی کام میونسپل شرقی اختر شیخ کی سرپرستی میں کیے جارہے ہیں جبکہ اختر شیخ کے خلاف ضلع وسطی میں تعیناتی کے دوران لوکل ٹیکس گڑبڑ کی تحقیقات نیب میں جاری ہے۔
ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اختر شیخ کو مبینہ طور پر وزیر بلدیات کے پرسنل اسٹاف آفیسر رحمت اللہ شیخ کی سرپرستی حاصل ہے، جس کی مدد سے بلدیہ شرقی میں ماہانہ 18کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن ہورہی ہے، اس ضمن میں منتخب نمائندوں نے چپ سادھ لی جبکہ متحدہ ورکرز فرنٹ میدان میں آگئی۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود اشتہاری مٹیریل میں فولادی مٹیریل کا کھلم کھلا استعمال جاری ہے۔اشتہارات کے نام پر پوری کی پوری عمارتوں کو چھپا دیا گیا۔قانون کے مطابق اشتہاری مواد کے لئے بلڈنگز کی کھڑکیوں کو بند نہیں کیا جاسکتا۔

ملازمین کے مطابق شہرقائد کے ڈسرکٹ میونسپل کارپوریشنز میں میں بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے مگر اس کے باوجودعوامی نمائندوں اور ایم کیوایم پاکستان کی اپنے ملازمین کے حقوق پر خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔
چیئرمین شرقی معید انور نے اپنے دفتر کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرین سے ملاقات کر کے اُن کے مطالبات اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
