اسلام آباد، سابق افغان وزیراعظم اور حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکتم یار نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان یک جان دو قالب ہیں، افغانوں نے پڑوسیوں کی آزادی بھی بچائی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانوں کی برسوں مہمان نوازی کی جس پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعتِ اسلامی سراج الحق سے منصورہ میں ملاقات میں کیا، اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے پاکستان نے بڑے اخلاف اور محبت کا ثبوت دیا، ہمارے ملک کا مستقبل روشن ہے۔
گلبدین کا کہنا تھا کہ افغانیوں نے نہ صرف اپنی آزادی کی جدوجہد کی بلکہ پڑوسی ملک کی آزادی اور خودمخاتی کو بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، پاکستان اور افغانستان ایک جان اور دو دل ہیں۔دونوں ممالک ایک دوسرے کا خیال کرتے ہیں تاہم سامراجی پالیسیاں مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید گھمبیر بنا رہی ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہافغانستان کے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمتیار صاحب آج ہمارے ہاں تشریف لائے۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کے باہمی تعلقات اور افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کا ایک صفحے پر آنا بہت ضروری ہے، دشمن ہمیشہ دونوں برادر اسلامی ممالک میں تنازعات پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کی بھارتی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ افغانستان کےعوام نےاپنی آزادی کےلیے لاکھوں شہداء پیش کیے، پاکستانی قوم نےبھی اپنےافغان بھائیوں کو رہنے کےلیے نہ صرف گھر دیےبلکہ اپنےدلوں میں جگہ دی، اس پورےعرصہ میں بڑی قربانیاں دیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان آج بھی افغانستان کےساتھ کھڑا ہے، اور افغان عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سےدیکھتا ہے، افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بہت ضروری ہے، اس کےبعد ہی افغان دھڑے باہمی اتفاق و اتحاد سے ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرسکیں گے۔
سراج الحق نے مشورہ دیا کہ افغانستان کی تمام جماعتوں اور قیادت کو قیام امن کے مشترکہ کوشش کرنا ہوگی تاکہ نئی افغان نسل کو پڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
