نیویارک : عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے پاکستان کو دیے جانے والے 6 ارب ڈالر قرض کی شرائط اور ان کی تفصیلات جاری کردیں۔
آئی ایم ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے ساتھ سخت شرائط عائد کی گئیں ہیں، جن میں پاکستان کو سالانہ 1500 سے 2000 ارب روپے ٹیکس کی مد میں آمدن بڑھانا جبکہ کرنسی ریٹ مارکیٹ میں آزادانہ چھوڑنا اور روپے یا ڈالر کی قیمتوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مداخلت نہ کرنا ہے۔
آئی ایم ایف ترجمان کا کہنا تھا کہ مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کیا جائے گا جبکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں گی اور گردشی قرضوں کا خاتمہ کیا جائے گا، واجبات کی وصولیوں کو یقینی بنایا جائے گا، اسی طرح گیس اور بجلی کی قیمتوں اضافے پر وزیراعظم سمیت کوئی بھی شخصیت مداخل نہیں کرے گی۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے کاررروائیاں کی جائیں اور اداروں کو مضبوط کر کے ان میں شفافیت لائی جائے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکا جائے۔
IMF Executive Board approved today a three-year US$6 billion loan to support #Pakistan’s economic plan, which aims to return sustainable growth to the country’s economy and improve the standards of living. pic.twitter.com/HCAMr1KWfK
— Julie Kozack (@IMFSpokesperson) July 3, 2019
پاکستان کی معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کمزور ہوئی، اندرونی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف کے مطابق ماضی میں ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا، پاکستان میں ٹیکس کے نظام میں کمزوریاں ہیں جب کہ سرکاری اداروں میں نا اہل افسران کی تعیناتی سے معیشت کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
