پاکستان میں‌ خطرناک نشے پر سے پابندی ہٹانے کی تیاری

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی  برائے صحت کے چیئرمین سینیٹر میاں عتیق نے کہا ہے کہ آج شیشہ ہر گھر میں پہنچ چکا ہے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہم بھی اسے ریگولیٹ کردیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انہوں نے اپنا ویڈیو شیئر کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ہم شیشوں کو گھروں سے نکال کر ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر لے جائیں گے اس پر پابندی اب مشکل نظر آتی ہے کیونکہ یہ اب ہر گھر میں پہنچ چکا۔

دوسری جانب ماہرین صحت نے پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے شیشہ مراکز کو قانونی قرار دینے کی تجویز پر تنقید کی اور کہا کہ پارلیمانی اراکین کو عوامی مفاد کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کی جانب سے تمباکو کی صنعت کو تمباکو کے اشتہارات سے متعلق رہنمائی کے لیے پارلیمانی کمیٹی میں نمائندگی کی تجویز ادارہ عالمی صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے فریم ورک کنونش آن ٹوباکے کنٹرول ( ایف سی ٹی سی ) کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔

سینیٹر میاں عتیق شیخ کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس کے دوران کچھ سینیٹرز نے تجویز دی کہ شیشہ سینٹرز کو لیگلائز کیا جائے کیونکہ ان پر پابندی کی وجہ سے لوگوں نے گھروں میں شیشہ استعمال کرنا شروع کردیا، قائمہ کمیٹی نے تجویز دی کہ پارلیمانی کمیٹی میں تمباکو کی صنعت کو نمائندگی دی جائے تاکہ تمباکو کے اشتہارات سے متعلق رہنمائی حاصل کی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: