’’خواتین پر تشدد کرنے والے مردوں کے ساتھ مجرموں والا سلوک ہونا چاہیے‘‘

پاکستانی اداکار محسن عباس کی اہلیہ نے کل نیا پینڈورا باکس کھولتے ہوئے ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔

محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد اور شوہر کے مظالم کی داستان فیس بک پوسٹ میں بیان کی اور بتایا کہ ’’زچگی کے دوران محسن عباس نے مجھے مارا اور بال پکڑ کر بھی گھسیٹا، جب مجھے اُس کے دوسرے پیار کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس کا رویہ تبدیل ہوگیا‘‘۔

انہوں نے’ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے‘ کے عنوان سے ایک طویل پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ شوہر نے انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ گھر بسانے کی وجہ سے خاموش رہیں۔

فاطمہ نے لکھا کہ گزشتہ برس نومبر میں دورانِ حمل انہیں معلوم ہوا کہ نازش جہانگیر نامی اداکارہ اور ماڈل کے محسن سے تعلقات ہیں اور وہ انہیں دھوکا دے رہے ہیں، ’’محسن نے کہا کہ اگر نازش والی بات کسی کو بتائی تو وہ طلاق دے دیں گے‘‘۔

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچے اور گھر بسانے کی خاطر خاموش رہیں، جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تب بھی محسن کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک نہ ہوا اور جب اُس کی 20 مئی کو ولادت ہوئی تو محسن نازش کے ساتھ کراچی میں وقت گزار رہا تھا اُسے میری کوئی پرواہ نہٰں تھی، بعد ازاں اُس نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ڈپریشن کے حوالے سے اسٹیٹس ڈالا اور پھر انہیں ڈیلیٹ کردیا۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ محسن اپنے بچے کو دیکھنے دو روز بعد آیا اور کوئی دلچسپی نہیں دکھائی البتہ مداحوں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کچھ تصاویر بنوائیں، اسپتال سے میں گھر چلی گئی اور جب 17 جولائی کو دوبارہ محسن کے گھر جاکر میں نے بچے کی ذمہ داری اٹھانے کا مطالبہ کیا تو اُس نے انکار کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر فاطمہ کی پوسٹ کے بعد ایک طوفان پرپا ہوگیا جبکہ محسن عباس نے اپنی اہلیہ کو جھوٹی فیمنسٹ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ معاملات بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرلیتے ہیں۔ شوبز انڈسٹری کی دو شخصیات ایسی ہیں جو محسن عباس کے رویے سے واقف تھیں مگر انہوں نے فاطمہ کی وجہ سے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی تاہم اب موقع غنیمت جان کر انہوں نے بھی سب کچھ بیان کردیا۔

نوجوان اداکارہ دعا ملک نے تنازع سے متعلق کہا کہ ’’میں اس تمام صورتحال کی عینی شاہد ہوں، میں نے یہ آگ تین سال تک دل میں چھپا کر رکھی، میں نے خود محسن کو اپنی بیوی پر تشدد کرتے ہوئے بیچ سڑک پر دیکھا، اتنا زیادہ ہراساں ہونے کے باوجود فاطمہ نے سالوں مظالم سے متعلق کوئی بات نہیں کی‘‘۔

دعا ملک نے کہا کہ ’’وہ (فاطمہ) تین سال سے صرف خوف و ہراساں ہونے کا تذکرہ کرتی تھی جس پر میں نے اُسے آواز اٹھانے کا مشورہ دیا مگر وہ گھر بسانے کی خواہش مند تھی اور اس معاملے میں آخری حد تک گئی‘‘۔

اداکار گوہر رشید نے تنازع پر اپنامؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ’ فاطمہ سہیل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا میں دوسرا گواہ ہوں ، 2018 میں جب محسن عباس حیدر نے فاطمہ پر تشدد کیا تھا میری دوست اسے ہسپتال لے کر گئی تھی،مجھے اسی کے ذریعے پوری بات کا علم ہوا، فاطمہ میری بہن جیسی ہے‘۔

گوہر رشید نے لکھا کہ ’وہ اپنے شادی کا بچانا چاہتی تھی اور اپنےبچے کی صحت چاہتی تھیں اس لیے ہم نے ان کی بات کا احترام کیا اور چُپ رہے لیکن اب وہ سچ خود سامنے لے آئی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے مرد معاشرے کے لیے خطرہ ہیں، میں اسے ایک خطرے کے دور پر دیکھتا ہوں، فاطمہ کو انصاف کی ضرورت ہے اور اسے مدد کی‘۔

دوسری جانب اداکار شان شاہد نے ٹوئٹ کیا ’ اصل مرد خواتین کو مارتے یا ان کی بے عزتی نہیں کرتے، جو ایسا کرتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں، ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنا چاہیے اور قانون سے ویسی ہی سزا ملنی چاہیے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: