Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پاکستان میں‌ 19 سالہ دورِ‌ کی کرپشن کہانی، عالمی ادارے کی تہلکہ خیز رپورٹ | زرائع نیوز

پاکستان میں‌ 19 سالہ دورِ‌ کی کرپشن کہانی، عالمی ادارے کی تہلکہ خیز رپورٹ

برلن: بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے 19 سالہ پاکستان حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں کرپشن عروج پر تھی۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 19 سالہ رپورٹ میں مشرف حکومت کو کرپٹ ترین قرار دیا گیا مگر تحریک انصاف کی حکومت نے سابق صدر کے خلاف تحقیقات خارج کردیں اور بس مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی حکومت کی دس سالہ کارکردگی کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

عالمی کرپشن انڈیکس کے مطابق مشرف کا دورِ حکومت مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے ادوار سے زیادہ کرپٹ تھا، اُس کے بعد سب سے کم کرپشن 2018 میں ہوئی، بعد ازاں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہونے کے بعد کیئر ٹیکر گورمنٹ میں بھی کرپشن ہوئی۔

ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو 100 میں سے 33 نمبر دیے گئے جنہیں خراب نہیں بلکہ بہتر قرار دیا جاسکتا ہے، اسی طرح بے نظیر بھٹو کی 1996 میں بننے والی حکومت کو 100 میں سے 10 نمبر دیے گئے۔

مشرف کے دورِ حکومت 2004 سے 2005 تک کرپشن کو 100 میں سے 21 نمبر دیے گئے جو دنیا بھر میں کرپشن کا بدترین ریکارڈ شمار کیا جارہا ہے جبکہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت بھی کرپٹ ترین رہا اور اُسے 100 میں سے 24 نمبر دیے گئے یہ بات 2001 کی حکومت کی ہے۔

انڈیکس کے مطابق 1996 کی حکومت کو 100 میں سے 10، 1997 کی حکومت کو 100 میں سے 25، 1997 میں 27، 1998 میں 22، 1999 میں 22، 2001 میں 23، 2002 میں 26، 2003 میں 25؛ 2004 میں 21؛ 2005 میں بھی 21؛ 2006 میں 22؛ 2007 میں 24؛ ، 2008 میں 25؛ 2009 میں 24؛ 2010 میں 23؛ 2011 میں 25؛ 2012 میں 27؛ 2013 میں 28؛ 2014 میں 29؛ 2015 میں 30؛ 2016 میں 32؛ 2017 اور 18 میں 33 نمبر دیے گئے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ دس سالہ ادوار کی حکومتوں کا احتساب کررہی ہے اس ضمن میں ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن بھی بنایا گیا جس کی سربراہی حسین اصغر کررہے ہیں جبکہ دیگر افسران میں آئی ایس آئی، آئی بی، ایم آئی، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افسران شامل ہیں۔