ایم کیو ایم میں قیادت کی رسہ کشی، کون ان ہوگا کون آؤٹ، خالد مقبول اور عامر خان میں سرد جنگ کا آغاز
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان میں سرد جنگ کا آغاز ہوگیا، اب کی بار عامر خان نے رابطہ کمیٹی کا خفیہ اجلاس طلب کر کے خالد مقبول کو آئین کے مطابق کنونیئر شپ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تو بات وفاقی وزیر تک پہنچ گئی۔
خالد مقبول صدیقی نے اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین رابطہ کمیٹی کو طلب کر کے جھاڑ پلائی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بند بھی کروادیں جس کے بعد رابطہ کمیٹی کے اراکین نے عامر خان کا ساتھ نہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ پارٹی میں ہونے والی رسہ کشی اور قیادت حاصل کرنے کی جنگ کے باعث کارکنان بھی تذبذب کا شکار ہیں۔
عامر خان تمام تر صورتحال میں قیادت سے لاتعلقی کرتے ہوئے دبئی روانہ ہوئے اور گزشتہ کئی روز سے وہی مقیم تھے البتہ گزشتہ شب اچانک اُن کی واپسی ہوگئی جس کے بعد علیحدگی کی خبریں کمزور پڑ گئی تاہم ایم کیو ایم کے ذرائع نے تصدیق کی کہ خالد مقبول صدیقی اور عامر خان کے درمیان سرد جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے اور کارکنان کا اعتبار خالد مقبول پر ہے۔
عامر خان نے متحدہ پاکستان کی کمان سنبھال لی، لندن کارکنان کو توڑنے کا فیصلہ
خالد مقبول نے پارٹی کی تنظیم نو کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا جبکہ عامر خان کو بطور کنونیئر ہدایت کی کہ وہ آئندہ کسی بھی بڑی سیاسی بیٹھک میں نہیں جائیں گے اور نہ ہی انہیں کسی بھی قسم کا اختیار ہے لہذا کنونیئر کے نامزد کردہ لوگ ہی مذاکرات کے لیے جائیں گے۔
عامر خان کے واپس آتے ہی کنور نوید، فیصل سبزواری سمیت دیگر رابطہ کمیٹی کے اراکین ایک بار پھر متحرک ہوگئے جبکہ خالد مقبول صدیقی زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزار رہے ہیں۔
