Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ادارہ ترقیات کو سندھ حکومت کی گرانٹ پر انحصارکے بجائے اپنا ریونیو بڑھانا ہوگا | زرائع نیوز

ادارہ ترقیات کو سندھ حکومت کی گرانٹ پر انحصارکے بجائے اپنا ریونیو بڑھانا ہوگا

تبدیلی سے ادارہ ترقیات کراچی کو تختہ مشق بنانے کی منفی کوشش بند ہونی چاہیے سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی 20کروڑ کی گرانٹ کو متبادل کے تناظر میں رکھتے ہوئے اپنے ریونیو کے ذرائع کو بڑھانا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پائپ فیکٹری کے منصوبے کو عملی جامع پہناتے ہوئے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ سے بات کرنی ہوگی جبکہ ملنے والے ریونیو سے ادارہ ترقیات کراچی کامالی بحران حل ہونے کی قوی امید بھی ہے نیک نیتی ،فرض شناسی اولین ترجیج ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   وزیر بلدیات سیدناصرحسین شاہ نے کنریکٹ ملازمین کومستقل کرنے محکمہ جاتی قانونی تقاضے پورے کرنیکی ہدایت جاری کردیں کنریکٹ ملازمین کی امیدیں جاگ گئی۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (رپورٹ :سید محبوب احمد چشتی )ادارہ ترقیات کراچی میں مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف سندھ حکومت کی گرانٹ پر انحصار کرنا غیردانشمندانہ ہوگا ہر مہینے بھکاریوں کی طرح سندھ حکومت کے سامنے کھڑے ہوجائو اور ملازمین کی تنخواہوں ،پنشن ،سمیت دیگر مالی مسائل کا رونا رو کر انکی عزت نفس کو متاثر کرنا کراچی دویلپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ کو بالکل زیب نہیں دیتا موجودہ صورتحال میں کے ڈی اے کو سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی 20کروڑ کی گرانٹ کو متبادل کے تناظر میں رکھتے ہوئے اپنے ریونیو کے ذرائع کو بڑھانا ہوگا پائپ فیکٹری کے منصوبے کو عملی جامع پہناتے ہوئے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ سے بات کرنا ہوگی پائپ فیکٹری بحالی سے ادارہ ترقیات کراچی کوبڑا مالی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے واٹر بورڈ کے پاس ناقص پائب شہر قائد کو بدترین سیوریج سے دوچار کررہے ہیں اس صورتحال میں کے ڈی اے پائپ فیکٹری کے معیاری  پائپ کے استعمال سے سیوریج کے مسائل میں بہت بہتری آسکتی ہے جبکہ ملنے والے ریونیو سے ادارہ ترقیات کراچی کامالی بحران حل ہونے کی قوی امید بھی ہے نیک نیتی ،فرض شناسی اولین ترجیج ضروری ہے۔

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کے ڈی اے سوک سینٹر میں بائیو میٹرک سسٹم کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ کا کہنا تھا کہ ادارہ ترقیات کراچی کو درپیش مسائل اور ملازمین کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لئے رواں ماہ میٹنگ بھی رکھی جائے گی جس میں کے ڈی اے کے مختلف امور سمیت دیگر مسائل کے خاتمہ کے لئے مثبت تجاویز پر تفصیلی غورو خوص کیا جائے گا صحافی سیدمحبوب احمدچشتی کے سوال پروزیربلدیات کایہ کہناتھاکہ وزیر بلدیات سیدناصرحسین شاہ کاکنریکٹ ملازمین کومستقل کرنے محکمہ جاتی قانونی تقاضے پورے کرنیکی ہدایت جاری کردیں کنریکٹ ملازمین کئی سالوں سے ملازمت کررہے ہیں ہم انکی امیدوں ختم نہیں ہونے دینگے ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی ڈاکٹر بدر جمیل نے کہا کہ ماضی میں سب سے زیادہ منفی پہلو یہ رہا کہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ترقیاتی کاموں اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال نہیں کیا گیا جس کے باعث خراب معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ماضی کی غلطیوں کا صحیح ادراک کرکے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے مثبت سمت میں قدم بڑھایا جائے تو کوئی بھی ادارہ کامیابی کی منازل طے کرتے ہوئے تاریخ میں اپنے لئے نام پیدا کرنے کے علاوہ شہریوں کو بھی مشکلات و مسائل سے نجات دلاکر سرخرو ہوسکتا ہے۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے لئے حکومت سندھ کا تعاون درکار ہے، امید ہے کہ وزیر بلدیات سندھ کے ڈی اے کو ترقی یافتہ اداروں کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے مرکزی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، تمام افسران و ملازمین کا بائیوڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل جاری ہے جس کا مقصد تنخواہیں بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ادا کی جاسکیں گی اور غیر حاضر افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جاسکے گی، اس صورتحال میں بار بار کی تبدیلی سے ادارہ ترقیات کراچی کو تختہ مشق بنانے کی منفی کوشش بند ہونی چاہیئے ڈی جی بدر جمیل اور انکی مکمل ٹیم کو کچھ عرصے کام کرنے کاموقعہ ملنا چاہیئے مسلسل تبدیلیوں سے ادارہ ترقیات کراچی اپنی ساکھ تیزی سے کھوتا جارہا ہے