کراچی میں واقع شپ اونر کالج میں گزشتہ دنوں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں تقریر کے دوران ایک ٹیچر اور پرنسپل کی مڈبھیڑ ہوئی، ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو کئی طرح کے سوالات نے جنم لیا۔ ویڈیو اساتذہ کے حمایتی یافتہ امیدوار کی جانب سے بنائی گئی جس کو کچھ ایسا تاثر دے کر پیش کیا گیا کہ پرنسپل صلاح الدین غیر قانونی احکامات دے رہے ہیں اور انہوں نے اساتذہ کی تنخواہیں بند کروادیں ساتھ ہی عدالت لے جانے کی دھمکی بھی دی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد ہمارے نمائندے نے پرنسپل صلاح الدین سے مؤقف لیا تو انہوں نے کہا کہ ’’شور مچانے اور ہنگامہ آرائی کرنے والے اساتذہ کی تعداد 23 ہے اور انہیں اس بات پر تکلیف ہورہی کہ میں نے غیر حاضر ٹیچرز کو ہر صورت کالج آنے کی ہدایت کی، جو اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتا اُسے تنخواہ لینے کا حق نہیں‘‘۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’’متذکرہ اساتذہ بائیو میٹرک مشین لگنے کے باوجود بھی حاضری کے لیے دفاتر نہیں آئے اور بضد ہیں کہ انہیں پورے مہینے کی تنخواہ ادا کی جائے، جب تںخواہیں روکی گئیں تو پھر انہوں نے میرے خلاف بینرز لگائے، نیا تعلیمی سال شروع ہونے پر احتجاج کیا اور بچوں کے والدین کو ورغلانے کی بھی کوشش کی البتہ ان کی باتوں میں کوئی نہیں آیا‘‘۔
پرنسپل صلاح الدین نے بتایا کہ اُن کے کالج میں 57 اساتذہ ہیں جن میں سے 23 کو تکلیف ہے اور انہوں نے ہی میرے خلاف بینرز لگائے ہیں، ان لوگوں کی پیشت پناہی ٹیچر کی تنظیم سپلا اور دس سال سے ادرے میں سیاسی اثررسوخ پر ملازمت حاصل کرنے والا مشتاق کلوٹا کررہا ہے۔
وائرل ویڈیو پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ’’طالب علموں کو پہلے دن خوش آمدید کہنے کے حوالے سے تقریب تھی جسے احتجاجی اساتذہ نے روکنے کی کوشش کی اور اسٹیج پر چڑھ کر بدمزگی پھیلائی، میرے روکنے پر انہوں نے دھکا دیا جس کے بعد ہاتھا پائی ہوئی، میں تو میں بلکہ طالب علموں کے والدین بھی زخمی ہوئے‘‘۔
اُن کا کہنا تھا کہ طالب علموں کے والدین اس وقت شدید ہراساں ہیں اور وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ تحفظ بھی چاہتے ہیں، والدین نے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر تعلیم کے نام درخواست لکھ دی تاکہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور طالب علموں کا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔
پرانے اور نئے طالب علموں کا مؤقف
طالب علموں نے مؤقف دیا کہ انہیں صلاح الدین صاحب کی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے کلاس مل جاتی ہے، کئی مضامین کے اساتذہ کلاس میں حاضر نہیں ہوتے جس سے ہمارا تعلیمی نقصان ہورہا ہے، یہ جھگڑے کو حل کیا جائے تاکہ ہم ایک طرف ہوکر اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں۔
ویڈیو دیکھیں
