منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 اکتوبرتک توسیع ،عدالت نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے وقت سیف سٹی کی بننے والی فوٹیج محفوظ کرنےکی درخواست منظور کرلی
انسداد منشیات لاہور کی خصوصی عدالت کے جج خالد بشیر نےکیس کی سماعت کی، سیکیورٹی اور وکلاء ہڑتال کے باعث رانا ثناءاللہ کوعدالت پیش نہ کیا گیا۔ راناثناء اللہ کے وکیل نے کہا اتنی پولیس کی موجودگی میں ملزم کوپیش کیاجا سکتا تھا، انہوں نے کہا کہ ٹرائل کا غیر جانب دار ہونا رانا ثناءاللہ کا قانونی اور آئینی حق ہے۔
سیف سٹی اتھارٹی سے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی ویڈیو طلب کی جائے . سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزموں نے فوٹیج کے لئے سیف سٹی کو کوئی درخواست نہیں دی، فوٹیج میں صرف گاڑیاں گزرنے کے علاوہ کیا نظر ائے گا،جان بوجھ کرکیس کو سیاسی بنایا جا رہا ہے،جب کیس شروع ہو گا تو تمام حقائق سامنے آجائیں گے،ملزموں کی فوٹیج فراہمی کی درخواست بے بنیاد ہے مستردکی جائے،عدالت نے رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 اکتوبرتک توسیع کردی،عدالت نے رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر کے ٹھوکر نیاز بیگ سے تھانے لے جانے کی سیف سٹی کی بننے والی فوٹیج محفوظ کرنےکی درخواست منظورکرلی
