Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عمران خان کی تقریر کے بعد مغربی محققین کی اسلامی تعلیمات پر تحقیق | زرائع نیوز

عمران خان کی تقریر کے بعد مغربی محققین کی اسلامی تعلیمات پر تحقیق

ہاں اُس نے دنیا کو بتا دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے کیا ہیں، بتا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کے شاہد ہیں، قرآن ہدایت کا راستہ ہے اور نبی ہمارے دل میں رہتے ہیں۔ اُس نے کہا کہ نبی ہمارے آئیڈیل ہیں۔

یہ سن کر ساری دنیا اُس کی گرویدہ ہو گئی، مگر مغرب میں کچھ لوگ تحقیق پر لگ گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام نے اخلاقیات کو انسانیت کی معراج بتایا، اُن تحقیق کاروں نے اخلاقیات کی کسوٹی پر اس شخص کو پرکھا، مایوس ہوئے۔ اُنہوں نے اسلام کے بارے میں جانا تو دیکھا کہ رسول نے فرمایا کہ مومن وعدہ خلاف نہیں ہوگا، جھوٹ نہیں بولے گا، فحش گوئی نہیں کرے گا۔ یہاں بھی وہ پورا نہیں اترا۔ اُنہیں معلوم ہوا کہ رسول نے اقلیتوں کے تحفظ کا حکم دیا ہے، حاکم پر بہت بھاری ذمے داری بتائی ہے۔ وہ اس زمہ داری کو نبھانے میں بھی ناکام رہا۔

رسول نے مزدور کی مزدوری وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا، تحقیق کرنے والوں نے دیکھا کہ اُس کے ملک میں ڈاکٹروں سے لے اساتذہ تک، مزدور سے لے کر کسان تک اور سرکاری ملازمین سے لے کر میڈیا نمائندوں تک سب پسینہ خشک کر بیٹھتے ہیں مگر مزدوری نہیں ملتی۔ تحقیق کاروں کو پتہ چلا کہ اسلام نے حکم دیا ہے کہ لوگوں پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو لیکن اُس نے غربت میں پسی رعایا کو مزید ٹیکسوں تلے روند دیا ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ رسول نے اقربا پروری سے سختی سے منع فرمایا ہے مگر اِس انسان نے اپنے تمام دوستوں کو عہدوں سے نواز رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ رسول نے یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا، بچھڑوں کو ملایا، مظلوم کو انصاف دلایا اور اس انسان کی حکومت میں ساہیوال کے بچے یتیم ہوئے، پولیس نے صلاح الدین کو مار دیا، پیارے پیاروں سے بچھڑ گئے، لا پتہ ہو گئے مگر حاکم چپ رہا۔ معلوم ہوا کہ رسول کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اُن کے بعد والے غریبوں کی داد رسی کرتے تھے، اور آج غریب کے منہ کا نوالہ چھن چکا ہے۔

تحقیق کاروں نے رسول کی حیات اور قرآن کا مطالعہ کیا تو وہ اتنی شاندار حیات مبارکہ اور اتنی مدلل کتاب کے گرویدہ ہو گئے، اسی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کہ وہ بہت بری چیز ہے ! اس کے بعد اُنہیں یقین ہو گیا کہ یہ انسان صرف باتیں رسول کی کرتا ہے، عمل ایک فیصد نہیں کرتا۔ اس کسوٹی کے بعد کوئی اور کسر نہ رہی اور کسی نے اس شخص کو سنجیدہ نہیں لیا سوائے اس کے یوتھیوں کے !

 

تحریر : احمد اشفاق کی وال سے لی گئی