کراچی: شہر قائد میں تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے والے سرکاری اسکولز نے طالب علموں کو ایک نئے نام پر لوٹنا شروع کردیا،مارک شیٹ اور انرولمنٹ کے عوض پیسے وصول کر کے سرکاری احکامات دھجیاں اڑا دی گئیں، غیررجسٹرڈ پرائیویٹ اسکولز کے طلبہ کے فارم سرکاری اسکول سے بھیجوانے کاانکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول KTS3کورنگی 3کے کیپمس انچارج ذوالفقارانورعباسی نے اسکول کے طلبہ سے مارک شیٹ جاری کرنے کے 500روپے مانگ رہا ہے جبکہ غیررجسٹرڈ پرائیویٹ اسکولز کے طلبہ سے فی فارم1000روپے لے رہا ہے۔
زرائع کے مطابق گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول KTS3کورنگی 3 میں رجسٹرڈ طالبعلموں کی تعداد صرف 10 ہے جبکہ اس وقت اسکول میں 80کے قریب فارمز جمع ہوچکے ہیں۔
یاد رہےکہ زوالفقار پر پچھلے سال بھی نقل کروانے اور جعلی طلبہ امتحان میں بیٹھانے کی رپورٹس سامنے آئی تھی مگر گسٹا کا عہدیدارہونے اورڈی ای او اور بڑے افسران سے روابط کی وجہ سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی تھی..زرائع کےمطابق زوالفقار انور عباسی گسٹا الیکشن میں امیدوار ہے اور الیکشن کے اخراجات پورے کرنے اور اساتزہ کی سالانہ فیس جمع کرانے کیلئے ہر جائز وناجائز کام کرنے کیلئے تیار ہے.اس وقت زوالفقار گرلز اسکول کا کیمپس انچارج بنا ہوا ہے اوراسکول کو اپنے زاتی مقاصد کیلئے استعمال کررہا ہے دوسری طرف گرلز سیکنڈری اسکول KTS3کی خواتین اساتزہ کو بھی اس سے شکایت ہیکہ زوالفقار اسکول میں مرد حضرات کوبلا کر میٹنگ کرتا ہے اور آجکل پرائیویٹ اسکولز والوں کا بھی آناجانا لگا ہوا ہے جس سے ہم خواتین اساتزہ زہنی ازیت کا شکار ہے..
