ادارہ ترقیات میں مزید بہتری کیسے لائی جائے، تجزیاتی رپورٹ

ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی بدر جمیل محکمہ جاتی تبدیلیوں کی خواہشات رکھنے والی سوچوں کو نظرانداز کریں

تجزیاتی رپورٹ :سید محبوب احمد چشتی

ادارہ ترقیات کراچی میں غیر مستقل مزاجی طرز فکر ارباب اختیار کی منفی سوچ کی عکاسی کررہی ہے مسلسل ہونے ہونے والی تبدیلیوں نے کے ڈی اے میں ملازمین وافسران کو شدید زہنی اذیت میں مبتلا کررکھا ہے کے ڈی اے میں سمیع صدیقی سسٹم کوچلینج کرنے والا ڈائریکٹر جنرل بنا تو بڑوں بڑوں کے ہوش ٹھکانے لگ گئے کسی طرح کے دبائو میں میں آئے بغیر جب ورکنگ شروع کی تو (ذاتیات) کو وجوہات بناکر انکے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کردیا گیا منافقت یہ بھی دیکھی گئی کہ سمیع صدیقی کی ذاتی وجوہات کوبنیاد بنانے والے بھی اپنے کام فائلیں بھی کرواتے رہے مالی مفادات کو بھی آگے رکھتے رہے ناصر عباس ،سمیع صدیقی ،منصور عباس ،عبدالقدیر منگی ڈائریکٹر جنرل کی زمہ داریاں اداکرچکے ہیں سمیع صدیقی کے بعد آنے والے ڈائریکٹر جنرلز کی تعیناتیاں بہت کم عرصے رہنے دی گئیں یعنی انکو کام کرنے نہیں دیاگیا وجوہات سب جانتے ہیں جب تک فیض ملتا رہتاہے پیر اچھا ہے ورنہ جاہل دماغی طور پر کمزور مرید پیر کو ہی لٹکوادیتا ہے پیرکامل کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ہے ادارہ ترقیات کراچی میں میں موجودہ صورتحال میں کلیم اللہ سے سمیع اللہ والا کھیل کھیلا جارہا ہے منتشر سوچوں کی آماجگاہ بنے چیف سیکرٹری ،سکیرٹری لوکل گورنمنٹ ،وزیر بلدیات سمیت وزیراعلیٰ سندھ نے ادارہ ترقیات کراچی میں غیرمستقل مزاجی کو پروان چڑھانے میں کسی نہ کسی طرح سے حصہ دار بن گئے تعمیری مثبت سوچوں سے عاری طرز فکر نے ادارہ ترقیات کراچی سمیت شہرقائد کے بلدیاتی اداروں سے فیض یاب ہونے کے بعدانکو بربادی کی جانب بھی لیکر گئے اس تمام صورتحال کے پیچھے کیا عوامل تھے اس تاریخ سے سب واقف ہیں بس ہلکی پھلکی موسیقی کے ذریعے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ورنہ پکے راگ گانے کا حوصلہ ایک فیصد بھی نہ ہوگا تعمیری پہلو کا اگر جائزہ لیا جائے تو اجتماعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ادارہ ترقیات کراچی میں ڈی جی کی تعیناتی کم سے کم 2یا 3سال کے لئیے ہونی چاہیئے ذاتی مفادات پورا نہ کرنے کیوجہ سے بھی ڈی جی کو کھبی خوشی کھبی غم کی کفیت سے گزرنا پڑتا ہے ناقص سوچوں سے مزین عملی قدامات کی عکاسی ملاحظہ فرمائیے کہ آنے والا دائریکٹرجنرل ادارے کے لئیے پالیسی بنانا شروع کرتا ہے اجلاس شروع کرتا ہے کچھ عرصے بعد بیورو کریسی اوراندورن خانہ سازشیں کی بدولت وہ ڈی جی رخصت پرچلا جاتا ہے اور نیا آنے والا ڈی جی نئے سرے سے اپنی پلاننگ شروع کرتا ہے اور یوں ادارہ ترقیات کراچی (ادارہ گھن چکر کراچی ) بنکر رہ گیا ہے کے ڈی اے میں غیر مستقل مزاجی ،غیر پیشہ وارانہ رویہ(NON PROFESSNAL ATTITUDE) کے ساتھ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میںمستقل بنیادوں پر( مقررہ وقت) کیلئیے ڈائریکٹرجنرل کی تعیناتی ہونی چاہیئے کچھ بہتر ہونے کی امید کے تناظر میں ادارہ ترقیات کراچی بہتری کی جانب جارہاہے مستقل بہتری اسوقت آسکتی ہے جب آنی جانیاں کچھ سالوں کے لئیے بند ہوں زبانی جمع خرچ کے بجائے ادارہ ترقیات کراچی میں بہتر ی آتی جارہی ہے موجوہ ڈی جی بدر جمیل کے آنے کے بعد محکمہ جاتی تعیناتیوں میں اہم تبدیلیوں کا آغاز ہوا جس میں محکمہ لینڈ ،محکمہ فنانس ،ریکوری سمیت دیگر تعیناتیوں نے مسلسل بگڑتی مالی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن محکمہ ریکوری میں ہونے والی تعیناتی نے ڈی جی بدر جمیل کی ساکھ پر اچانک سوالات کھڑے کردیئے ہیں ادارہ ترقیات کراچی مزید تبدیلیوں کا محتمل نہیں ہوسکتا ہے محکمہ جاتی تبدیلیوں کے سلسلے کو اب کچھ عرصے کے لئیے رکنا چاہیئے موجودہ صورتحال میں کے ڈی اے کی محکمہ جاتی تعیناتیوں کے عمل کو روکنے کے لئیے ڈائریکٹرجنرل بدر جمیل کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا سسٹم کو آنیاں جانیاں کی طرز فکر نہیں چلایا جاسکتا ہے موجودہ اہم افسران پر مشتمل تعیناتیوں نے ادارہ ترقیات کراچی کے معاملات میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ڈی جی بدر جمیل محکمہ جاتی تبدیلیوں کی خواہشات رکھنے والی سوچوں کو نظرانداز کریں تاکہ ادارہ ترقیات کراچی میں مزید بہتری کے عمل کو مسلسل رکھا جائے کیونکہ کسی بھی نظام کو چلانے کے لئیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے ..

اپنا تبصرہ بھیجیں: