بانی ایم کیو ایم بمقابلہ اسٹیلبشمنٹ‌، سلیم شہزاد کی خاموشی، تحریر کاشف رفیق محسن

ایم کیو ایم کے بانی رکن اور سابق وائس چیرمین سلیم شہزاد جو دو بار قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے اپنی 25 سالہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے پاکستان پہنچے تو انھیں ائیر پورٹ پر ہی گرفتار کر لیا گیا ۔ ڈاکٹر عاصم کیس میں انھیں عدالت کے سامنے پیش کر کے انکا ریمانڈ لیا گیا گذشتہ ہفتے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

اپنی رہائی کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کو انھوں نے طویل انٹر ویو دیا ۔ اس انٹر ویو سے قبل انکی واپسی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رھی تھیں جس کا سبب انکا وہ بیان تھا جو انہوں نے وطن واپسی سے پہلے جاری کیا تھا کہ میں دلوں کو جوڑنے کیلئے آ رہا ہوں مگر اس انٹر ویو سے بہت سے سوالات کے جوابات سامنے آ گئے ہیں اور یہ اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں کہ وہ کن مقاصد کے حصول کیلئے ایک ایسے وقت میں پاکستان آئے ہیں جسے بلعموم ایم کیو ایم کے حوالے سے اچھا وقت نہیں کہا جا سکتا یا پھر یہ کہ آیا وہ آئے ہیں یا انھیں لایا گیا ہے۔

اینکر خاتون کے اس سوال پر کہ 2010 میں انھیں کیوں رابطہ کمیٹی سے نکال دیا گیا تھا سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر جواب سے شائد خاتون خود بھی آگاہ نہیں تھیں کہ 2010 میں سلیم شہزاد کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی مخالفت کے سبب رابطہ کمیٹی سے الگ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 2013 میں انکی تنظیم سے بنیادی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھی سلیم شہزاد نے کہا کے تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر بنیادی رکنیت ختم کی گئی تھی جب کے حقیقت یہ ہے کہ 2013 میں سلیم شہزاد نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ ایم کیو ایم میں ایسے عناصر موجود ہیں جو بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارتگری میں ملوث ہیں جس پر انکی بنیادی رکنیت ختم کر کے انھیں تنظیم سے بے دخل کر دیا گیا تھا ۔

دوران انٹر ویو اینکر خاتون نے ان سے پوچھا کہ ایم کیو ایم کے چیرمین عظیم احمد طارق کے قاتل کیلئے انکے گھر کا دروازہ کس نے کھولا تھا جس پر انکا کہنا تھا کہ میں شروع دن سے کہتا آیا ہوں کے قاتل کوئی انجانا نہیں تھا اس لیئے اس کیلئے اندر سے دروازہ کھول دیا گیا جس پر اینکر نے کہا دروازہ مصطفی کمال نے کھولا تھا جو ان تنظیمی گارڈز میں شامل تھے جو عظیم احمد طارق کی حفاظت پر مامور تھے مگر سلیم شہزاد کا کہنا تھا وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے یہ بات حالیہ دنوں میں آفاق احمد نے کی ہے وہی بتا سکتے ہیں میں تو یہ جانتا ہوں کے وہاں موجود گاڑز قتل کے عینی شاہد تھے مگر اب ان گارڈز میں سے 98 فیصد مارے جا چکے ہیں۔

سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو کسی تنہا شخص نے اگر بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو اس کا نام رحمان ملک ہے انکا کہنا تھا کہ رحمان ملک غیر اعلانیہ طور پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا رکن تھا ۔ سلیم شہزاد کی گفتگو کا یہ وہ اہم ترین حصہ ہے جو انکی وطن واپسی اور آئندہ کے پروگرام کی مکلمل نشاندہی کرتا ہے مگر اسے سمجھنے کیلئے ہمیں ایک بار پھر ماضی کی طرف لوٹنا ہوگا ۔ 1988 اور 1990 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے نظریاتی عزائم بہت زیادہ کھل کر سامنے آ چکے تھے یہ درست ہے کہ ایم کیو ایم نے قوم پرستی کے نام پر سیاست کا آغاز کیا تھا اور مہذب سماجوں میں قوم پرستی کو روشن خیالی یا کسی بھی نوع کے لبرل بیانیہ کیلئے زہر قاتل سمجھا جاتا ہے مگر ایم کیو ایم کا قیام ایک ایسے ہی زہریلے سماج کا منظقی رد عمل تھا جہاں نسل پرستی کے جراثیم سماج کی بنیادوں کو اس طرح کھوکھلا کر چکے تھے کہ ایک ایک اکثریتی قوم اس کا شکار ہو کر ملک کی سالمیت کو دو لخت کر چکی تھی اور پاکستان دو حصوں میں بٹ چکا تھا مگر نسل پرستی پر مبنی اشرافیہ کے رویوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا تھا سو ایم کیو ایم ایک قوم پرست جماعت ہونے کے باوجود اپنے خدو خال اور فکر و فلسفہ کے حوالے سے کبھی بھی بنیاد پرست یا انتہا پسند مذہبی رحجانات کی حامل نہیں رہی سو ان دونوں انتخابابت میں اسکا فطری جھکاو پی پی پی کی جانب رہا جو سندھ کے حوالے سے انتہائی حقیقت پسندانہ رحجان تھا۔

سندھ میں فطری طور پر اگر کوئی سیاسی اتحاد بنتا تھا تو وہ پی پی اور ایم کیو ایم کا ہی تھا ۔ سو جب ایک کثیر رشوت کے ذریعے بھی ایم کیو ایم کو ایک بنیاد پرست اتحاد میں شامل نہیں کیا جا سکا تب اسٹیبلشمنٹ نے 1992 اور 95 میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ۔ گو کہ اس ریاستی آپریشن کی کئی اور وجوہات بھی تھیں مگر ایم کیو ایم کا اسٹیبلشمنٹ کے اثر سے باہر رہ کر حمید گل ڈاکٹرائن کی کھلی مخالفت کرنا سب سے بڑا اور بنیادی سبب تھا ۔

موجودہ سینٹ کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کی پوری کوشش تھی کہ ایم کیو ایم سینٹ کے چیرمین کیلئے مسلم لیگ نون کے امیدوار کو ووٹ کرئے اور پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے کیئے گئے ” ہوم ورک ” کی وجہ سے ایم کیو ایم کی مقامی قیادت کا پچاس فیصد سے زیادہ حصہ اس حق میں تھا کہ ایم کیو ایم مسلم لیگ نون کے امیداور کو ووٹ کرئے اور مقامی قیادت کے اس حصے نے پہلی بار کھلم کھلا اپنی لندن میں موجود قیادت سے اختلاف بھی کیا اور کئی دن تک مذاکرات چلتے رہے مگر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پی پی کے نامزد چیرمین میاں رضا ربانی کو ووٹ کرنے کاحتمی فیصلہ دے دیا۔

یہی وہ وقت ہے جب کراچی میں پہلے سے جاری جرائم کے خلاف آپریشن کا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا جو بلآخر 22 اگست اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کا سبب بنا ۔ حقیقت یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو کراچی میں وہی ایم کیو ایم چاہئے جو سندھ کے شہری علاقوں میں پی پی کو ٹف ٹائم دے اور سندھ میں پی پی حکومت کیلئے مسلسل ایک پریشر گروپ کا کام کرتی رہے ۔ اسٹیبلشمنٹ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ اس نے پی آئی بی میں ایم کیوایم کی مقامی قیادت کا جو جمعہ بازار لگا رکھا ہے اس میں تیس فیصد ایسے افراد ضرور موجود ہیں جن پر اسکا ورک مکلمل ہے اور وہ اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملائیں گے مگر ستر فیصد لوگ اب بھی اسی روشن خیال سوچ کے حامل ہیں جو ایم کیو ایم کی قیادت کا خاصہ رہی ہے ۔

سلیم شہزاد اگر اپنی مرضی سے پاکستان آئے ہوتے یا انکے دل میں مہاجر قوم کو یکجا کرنے کا کوئی جذبہ کارفرما ہوتا تو اول تو انکی ضمانت ہی نہ ہوتی اور دوسرا انکی زبان پر رحمان ملک کے بجائے ذوالفقار مرزا کا نام ہوتا اس ذوالفقار مرزا کا جس کی ایما پر کراچی کی سڑکوں پر ہزاروں بے گناہ مہاجر نوجوانوں کو قتل کیا گیا ۔ اس بات سے کون واقف نہیں کہ جب عمران خان اور ذوالفقار مرزا کی زبانیں الطاف حسین کے لئے زہر اگل رہی تھیں رحمان ملک اس وقت بھی کبھی نائن زیرو اور کبھی لندن کا دورہ کر کے مصالحت کی کوششوں میں مصروف تھے ۔

اور مزید دلچسپ بات یہ کہ عین اس وقت جب سلیم شہزاد فرما رہے تھے کہ ایم کیو ایم کو تمام تر نقصان پہنچایا ہی رحمان ملک نے ہے اسٹیبلشمنٹ اندرون سندھ ایک مزید اتحاد بنانے میں مصروف تھی اور یہ اتحاد ہے ذوالفقار مرزا اور ارباب غلام رحیم کا اتحاد ، جی وہی ارباب غلام رحیم جس نے پرویز مشرف کے حکم پر 12 مئی کو نہتے شہریوں پر گولیاں برسوائیں ، وہی ارباب غلام رحیم جس نے اسمبلی فلور پر بینظیر بھٹو کو پاکستانی سیاست کی نحوست قرار دیا اور زرداری سے اختلاف رکھنے والے ذوالفقار مرزا جو بینظیر اور بھٹو کے ترانے گا کر اپنے ووٹرز کو بیوقوف بناتے ہیں آج بینظیر کے سب سے بڑے دشمن ارباب غلام رحیم کے ساتھ انتخابی اتحاد بنا رہے ہیں اور مزید دلچسپ یہ کہ اس اتحاد کی سرپرستی عمران خان کی پی ٹی آئی کرئے گی ۔ کھیل مکمل ہے سندھ شہری میں پی پی کے مقابلے کیلئے مصفطی کمال ، آفاق اور کسی حد تک پی آئی بی والی ایم کیو ایم کا تحریک انصاف سے اتحاد اور دیہی سندھ میں تحریک انصاف ، ذوالفقار مرزا اور ارباب غلام رحیم کا اتحاد ۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ ضدی ، ہٹ دھرم اور ڈھیٹ ہے تو بیجا نہ ہوگا انتخابی دھاندلی الگ چیز مگر تاریخ گواہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اس قسم کے مصنوعی ڈراموں کو پاکستانی عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہے ۔ یہی حال ان کوششوں کا ہے گر فیصلہ برحق انصاف آتا ہے تو نوازشریف اور عمران خان دونوں ہی نا اہل ہیں علاوہ اسکے کہ ” عدالتی مارشل لا ” کے پرانے فارمولے پر عمل درآمد کرتے ہوئے انتہا پسند اور بنیاد پرست اسٹیبلشمنٹ تمام ہی روشن خیال جماعتوں اور لبرل بیانیہ کا صفایا کردے اور عمران خان و نواز شریف کو قوم پر فری ہینڈ کے ساتھ مسلط کر دیا جائے ۔ نہ تو ووٹ بینک عمران کے پاس ہے اور نہ ہی کراچی سمیت شہری سندھ میں پاک سر زمین پارٹی یا آفاق و پی آئی بی والوں کے پاس مہاجر ووٹ آج بھی الطاف حسین کا منتظرہے دوسری طرف اندرون سندھ میں ارباب رحیم اور ذوالفقار مرزا کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں اس کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ کا ایک ایک با اثر حصہ جو ضیا اور حمید گل ڈاکٹرائن کی باقیات پر مشتمل ہے اگر اپنی کوششوں میں مصروف عمل ہے تو ان کوششوں کو تباھی اور بربادی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: