Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
تحریک لبیک سیاسی جماعت نہیں‌ بلکہ... خادم رضوی کن جماعتوں‌کے لیے مشکلات کھڑی کریں‌گے

تحریک لبیک سیاسی جماعت نہیں‌ بلکہ… خادم رضوی کن جماعتوں‌کے لیے مشکلات کھڑی کریں‌گے

کراچی: معروف صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان مسلم لیگ ن کے بعد تحریک انصاف کے لیے بڑی مشکلات کھڑی کردے گی۔

انہوں نے نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال سے تحریک لبیک جیتنے کی پوزیشن میں شائد ہی ہو جبکہ ووٹ بینک توڑنے والی بات بھی اب بدل گئی ہے اور سمجھ لیں کہ اب یہ پریشر گروپ بن گیا ہے جس کا اپنا ایک ووٹ بینک ہے کیونکہ جب پہلی مرتبہ انہوں نے اپنے امیدوار الیکشن میں اتارے تھے تو یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک کاٹیں گے اور واقعی ایسا ہوا بھی لیکن اب ان کے امیدواروں کا عام انتخابات کیلئے میدان میں آنا پاکستان تحریک انصاف کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اب یہ جتنے بھی ووٹ لیں گے وہ مسلم لیگ (ن) کے مخالف ہوں گے اور اگر تحریک لبیک کے امیدوار نہ ہوتے تو یقینا یہ ووٹ تحریک انصاف کو پڑتا لہٰذا اب یہ جتنے بھی ووٹ لیں گے وہ تحریک انصاف کو جانے والے ہوں گے، ہاں! پہلے یہ ووٹ (ن) لیگ کے ہوں گے لیکن اب یہ تحریک انصاف کے ووٹ ہی ہوں گے جو تحریک لبیک لے گی۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ تحریک لبیک کی حکمت عملی یہ لگتی ہے کہ ملک بھر میں ووٹ لے کر یہ ثابت کریں کہ ہم ایک ملک گیر جماعت ہیں اور ہر جگہ پر ہمارا ووٹ ہے جبکہ اس دفعہ انہوں نے کسی سے اتحاد نہیں کیا حتیٰ کہ ایم ایم اے سے بھی اتحاد نہیں کیا اور شائد وہ ہر جگہ اپنی موجودگی اور ووٹ بینک ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا میرا خیال ہے کہ تحریک لبیک کو اب ’لانچ‘ نہیں کیا جا رہا ہے اور یہ واقعی ایک پریشر گروپ بن چکا ہے اور مولانا خادم حسین رضوی بہت اچھے آرگنائزر ہیں۔ مجھے ان کے پاس بیٹھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملا اور بطور صحافی میں نے یہ محسوس کیا کہ ان میں آرگنائزیشنل صلاحیتیں موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں اگر اسی طرح ان کی گروتھ ہوتی رہی تو یہ ایک طاقت بن سکتے ہیں۔

دوسرا ہمارے ہاں پچھلے 100 سال سے 200 سال کی تاریخ میں عشق رسولﷺ کا ہر پاکستانی کے اندر جذبہ ہے اور جب تحریک نظام مصطفی میں اس جذبے کو چیلنج کیا گیا یا تحریک ختم نبوت میں چیلنج کیا جاتا رہا اور ابھارا جاتا رہا تو اس کی ’فالوونگ‘ تو موجود تھی لہٰذا خادم حسین رضوی ایک ایسی شخصیت بن کر سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس ’فالوونگ‘ کو پکڑا ہے۔ ہاں! ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ یہ مسئلہ اٹھتا رہا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دبتا رہا ہے لیکن اب شائد خادم حسین رضوی چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو زندہ رکھ کر آگے لے کر چلیں۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔