اہل کراچی نے ایک بار پھر وطن سے محبت میں‌ خود کو سرخرو کردیا

عوام شہرقائدکی طرزفکرومحبت پاکستان کے لیئے سب سے بھاری حق وسچ سرخرو اہل کراچی کی قلبی خواہشات کونظراندازکرنے کے باوجودانکے نظریات پرقفل بندی ہونے کے باوجود ریونیو دینے میں روایتی تاریخ رقم کردی۔۔۔

شہر سب کا ہے لیکن اسکے مسائل صرف شہر قائد میں مستقل رہنے والوں کے لیئے ہیں وسائل د ینے میں بخل سے کام لینے کی اس طرزفکر میں تبدیلی ضروری کراچی زخموں سے چور چور ہونے کے بعد بھی ملک کو مضبوط کاندھے فراہم کرنے میں ایک بار پھر کامیاب۔۔ ملک کیلئے ریونیوجنریشن کیلئے خدمات کو تسلیمات کہنے کے بجائے اور اس کی تجارتی حیثیت کو مزید بڑھانے کیلئے انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں اہلیان کراچی کے احساس محرومی کو بام عروج پر پہنچا رہی ہے

کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمد چشتی) شہرقائدعوام کی طرز فکر ومحبت پاکستان کے لیئے سب سے بھاری حق وسچ اہل کراچی کی قلبی خواہشات کونظراندازکرنے کے باوجودانکے نظریات پرقفل بندی ہونے کے باوجود ریونیو دینے میں انہوں نے تاریخ رقم کردی کراچی سب کاہے لیکن کراچی کے مسائل صرف شہر قائد میں مستقل رہنے والوں کیلیئے ہیں وسائل د ینے میں بخل سے کام لینے کی اس طرزفکر میں تبدیلی ضروری ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق صرف تجارتی مراکز سے ٹیکس کی وصولیابی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی شہرقائد ٹیکس جمع کروانے کے لحاظ سے سب سے آگے ہے مگر سہولیات کا فقدان اس شہر کا نصیب بنتا جا رہا ہے کچرے جیسا معمول کا کام بھی شہر کے ادارے کرنے میں یکسر ناکام دکھائی دے رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ کراچی جمع شدہ کچرے کے لحاظ سے ملک کا سرفہرست شہر ہے حالیہ سندھ حکومت کی صفائی مہم میں دس فیصد جمع شدہ کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگایا گیا جبکہ ضرورت تھی کہ جب تک کراچی کا بیک لاگ ٹھکانے نہیں لگتا اسوقت تک صفائی مہم جاری رہنی چاہیئے تھی۔

ایف بی آر کے اعداوشمار ملاحظہ کئے جائیں تو کراچی کی ملک کیلئے ریونیوجنریشن کیلئے خدمات کو تسلیمات کہنے کے بجائے اور اس کی تجارتی حیثیت کو مزید بڑھانے کیلئے انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے جو کراچی کے باسیوں کے احساس محرومی کو بام عروج پر پہنچا رہی ہے کراچی کی صرف 6 مارکیٹس جس میں صدر.طارق روڈ۔ کلفٹن گولیمار.فیڈرل بی ایریا ۔ڈی ایچ اے اور جوہر مارکیٹس دیگر شامل ہیں ٹیکس کی مد میں 30.87 ارب روپے جمع کروا رہی ہیں اور ٹیکس فائلرز کی تعداد 85020 ہے اور اگر کراچی کی دیگر مارکیٹس کو اس میں شامل کرلیا جائے تو ٹیکس فائلرز کی تعداد لاکھوں اور ٹیکس کی رقم اربوں سے کھربوں تک پہنچ جائے گی دیگر شہروں میں جس میں لاہور ،فیصل آباد راولپنڈی اور اسلام آباد بھی شامل ہیں ٹیکس فائلرز کی تعداد انتہائی کم ہونے کے ساتھ افسوسناک حد تک ٹیکس وصولیابیاں بھی انتہائی کم ہیں ماسوائے اسلام آباد کے جہاں 4 بازاروں سے 1.93 ارب روپے ٹیکس وصول ہورہا ہے لاہور تجارتی حب میں کافی آگے جاچکا ہے اور ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے کی 4 بڑی مارکیٹس سے 567 ملین روپے ٹیکس وصول ہورہا ہے جبکہ ٹیکس فائلر کی تعداد صرف 3925 ہے جبکہ محدود اندازے کے مطابق چار بڑی مارکیٹس جس میں انارکلی ،مال ،حفیظ سینٹراور لبرٹی شامل ہیں ٹیکس وصولی اربوں میں ہونی چاہیئے لیکن نان فائلرز کی وجہ سے یہ معاملہ درست سمت میں نہیں جا رہا ہے جبکہ ایف بی آر کی کارکردگی بھی نامناسب دکھائی دے رہی ہے۔

مختصرا یہ کہا جائے کہ کراچی زخموں سے چور چور ہونے کے بعد بھی ملک کو مضبوط کاندھے فراہم کر رہا ہے لیکن جب جسم زخم خوردہ ہو تو کب تک کراچی اپنے ناتواں کاندھوں پر یہ بوجھ اٹھائے رکھے گا ضرورت ہے کہ کراچی کے زخموں کو بھرنے کیلئے مارکیٹس سے ہونے والی ٹیکس وصولی کو ہی ایماندارانہ بنیاد پر شہر پر لگا دی جائیں تو کراچی پھر دوڑنے کے قابل ہو جائے گا اور ٹیکس فائلرز اور ٹیکس وصولیابیاں ملک کی مناسبت سے ہوسکتی ہیں جس طرح کراچی سہولیات کی فراہمی سے دور ہوتا جا رہا ہے اس طرح خدانخواستہ کاروبار ہی نہ رہے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے کیا یہ بہتر راستہ نہیں ہے کہ کراچی کو ارباب اختیار صرف ایک سال کیلئے اسپیشل کیس کے طور پر لے کر اس ہی شہر کی ٹیکس ریکوری کو انفراسٹرکچر کی بہتری پر لگا دیں ایک مرتبہ ایسا کر دیا گیا تو کراچی وہ ٹیکس اس ملک کیلئے جنریٹ کر کے دے سکتا ہے جس کا تصور صرف معیشت کے ماہرین ہی سمجھ سکتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ شہرکراچی میں بھانت بھانت کے نظریات مسلط کرنیکاسلسلے   پرمشتمل تجربات اب بندہوجانے چاہیئے مسلسل تجربات نے شہر قائد کوویژن سے عاری شہرمیں تبدیل کردیاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں: